اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 422 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 422

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۱۶ اسلامی اصول کی فلاسفی قوت اس میں پائی نہیں جاتی۔ مگر جب ہم انسان کی قوتوں کو ٹولتے ہیں کہ ان میں اعلیٰ سے اعلیٰ کون سی قوت ہے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ خدائے اعلیٰ برتر کی اس میں تلاش پائی جاتی ہے یہاں تک کہ وہ چاہتا ہے کہ خدا کی محبت میں ایسا گداز اور محو ہو کہ اس کا اپنا کچھ بھی نہ رہے سب خدا کا ہو جائے ۔ وہ کھانے اور سونے وغیرہ طبعی امور میں دوسرے حیوانات کو اپنا شریک غالب رکھتا ہے۔ صنعت کاری میں بعض حیوانات اس سے بہت بڑھے ہوئے ہیں بلکہ شہد کی مکھیاں بھی ہر ایک پھول کا عطر نکال کر ایسا شہر نفیس پیدا کرتی ہیں کہ اب تک اس صنعت میں انسان کو کامیابی نہیں ہوئی ۔ پس ظاہر ہے کہ انسان کا اعلیٰ کمال خدا تعالیٰ کا وصال ہے۔ لہذا اس کی زندگی کا اصل مدعا یہی ہے کہ خدا کی طرف اس کے دل کی کھڑ کی کھلے۔ انسانی زندگی کے مدعا کے حصول کے وسائل ہاں اگر یہ سوال ہو کہ یہ مدعا کیوں کر اور کس طرح حاصل ہوسکتا ہے اور کن وسائل سے انسان اس کو پاسکتا ہے۔ پس واضح ہو کہ سب سے بڑا وسیلہ جو اس مدعا کے پانے کے لئے شرط ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالی کو صحیح طور پر پہچانا جائے اور بچے خدا پر ایمان لایا جائے کیونکہ اگر پہلا قدم ہی غلط ہے اور کوئی شخص مثلاً پرند یا چرند یا عناصر یا انسان کے بچہ کو خدا سمجھ بیٹھا ہے تو پھر دوسرے قدموں میں اس کے راہ راست پر چلنے کی کیا امید ہے۔ سچا خدا اس کے ڈھونڈنے والوں کو مدد دیتا ہے مگر مردہ مردہ کو کیوں کر مدد دے سکتا ہے۔ اس میں اللہ جل شانہ نے خوب تمثیل فرمائی ہے اور وہ یہ ہے۔ لَهُ دَعْوَةُ الْحَقِّ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ لَا يَسْتَجِيْبُونَ لَهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ