اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 420 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 420

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۱۴ اسلامی اصول کی فلاسفی تیسرا سوال دنیا میں زندگی کے مدعا کیا ہیں اور ان کا حصول کس طرح ہوتا ہے اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اگر چہ مختلف الطبائع انسان اپنی کوتاہ نہمی یا پست ہمتی سے مختلف طور کے مدعا اپنی زندگی کے لئے ٹھہراتے ہیں اور فقط دنیا کے مقاصد اور آرزوؤں تک چل کر آگے ٹھہر جاتے ہیں مگر وہ مدعا جو خدا تعالیٰ اپنے پاک کلام میں بیان فرماتا ہے۔ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ ا یعنی میں نے جن اور انسان کو اسی لئے پیدا کیا ہے کہ وہ مجھے پہچانیں اور میری پرستش کریں۔ پس اس آیت کی رو سے اصل مدعا انسان کی زندگی کا خدا کی پرستش اور خدا کی معرفت اور خدا کے لئے ہو جانا ہے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ انسان کو یہ تو مرتبہ حاصل نہیں ہے کہ اپنی زندگی کا مدعا اپنے اختیار سے آپ مقرر کرے کیونکہ انسان نہ اپنی مرضی سے آتا ہے اور نہ اپنی مرضی سے واپس جائے گا بلکہ وہ ایک مخلوق ہے اور جس نے پیدا کیا اور تمام حیوانات کی نسبت عمدہ اور اعلیٰ قومی اس کو عنایت کئے اسی نے اس کی زندگی کا ایک مدعا ٹھہرا رکھا ہے۔ خواہ کوئی انسان اس مدعا کو سمجھے یا نہ سمجھے مگر انسان کی پیدائش کا مدعا بلا شبہ خدا کی پرستش اور خدا کی معرفت اور خدا میں فانی ہو جانا ہی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں ایک اور جگہ فرماتا ہے۔ اصل مسودہ میں وہ یہ ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے“ کے الفاظ بھی مرقوم ہیں ۔ ( ناشر ) لا الذريات: ۵۷