اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 419
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۴۱۳ اسلامی اصول کی فلاسفی یہی ترقیات کی خواہش ہے جو انمم کے لفظ سے مجھی جاتی ہے۔ غرض اسی طرح غیر متناہی سلسلہ ترقیات کا چلا جائے گا۔ تنزل کبھی نہیں ہوگا اور نہ کبھی بہشت سے نکالے جائیں گے بلکہ ہر روز آگے بڑھیں گے اور پیچھے نہ ہٹیں گے اور یہ جو فر مایا کہ وہ ہمیشہ اپنی مغفرت چاہیں گے۔ اس جگہ سوال یہ ہے کہ جب بہشت میں داخل ہو گئے تو پھر مغفرت میں کیا کسر رہ گئی اور جب گناہ بخشے گئے تو پھر استغفار کی کون سی حاجت رہی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مغفرت کے اصل معنے یہ ہیں ناملائم اور ناقص حالت کو نیچے دبانا اورڈھانکنا۔ سو بہشتی اس بات کی خواہش کریں گے کہ کمال نام حاصل کریں اور سراسر نور میں غرق ہو جائیں۔ وہ دوسری حالت کو دیکھ کر پہلی حالت کو ناقص پائیں گے۔ پس چاہیں گے کہ پہلی حالت نیچے دبائی جائے۔ پھر تیسرے کمال کو دیکھ کر یہ آرزو کریں گے کہ دوسرے کمال کی نسبت مغفرت ہو یعنی وہ حالت ناقصہ نیچے دبائی جاوے اور مخفی کی جاوے۔ اسی طرح غیر متناہی مغفرت کے خواہشمند رہیں گے۔ یہ وہی لفظ مغفرت اور استغفار کا ہے جو بعض نادان بطور اعتراض ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت پیش کیا کرتے ہیں۔سوناظرین نے اس جگہ سے سمجھ لیا ہو گا کہ یہی خواہش استغفار فخر انسان ہے۔ جو شخص کسی عورت کے پیٹ سے پیدا ہوا اور پھر ہمیشہ کے لئے استغفار اپنی عادت نہیں پکڑتا وہ کیڑا ہے نہ انسان اور اندھا ہے نہ سو جا کھا اور ناپاک ہے اور نہ طبیب۔ اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن شریف کی رو سے دوزخ اور بہشت دونوں اصل میں انسان کی زندگی کے اظلال اور آثار ہیں۔ کوئی ایسی نئی جسمانی چیز نہیں ہے کہ جو دوسری جگہ سے آوے۔ یہ بیچ ہے کہ وہ دونوں جسمانی طور سے متمثل ہوں گے مگر وہ اصل روحانی حالتوں کے اظلال و آثار ہوں گے۔ ہم لوگ ایسی بہشت کے قائل نہیں کہ صرف جسمانی طور پر ایک زمین پر درخت لگائے گئے ہوں اور نہ ایسی دوزخ کے ہم قائل ہیں جس میں در حقیقت گندھک کے پتھر ہیں بلکہ اسلامی عقیدہ کے موافق بہشت دوزخ انہی اعمال کے انعکاسات ہیں جو دنیا میں انسان کرتا ہے۔