اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 387
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۸۱ اسلامی اصول کی فلاسفی کہ یہ بالکل صحیح نہیں ہے۔ ہم اس حستی و قیوم کو محض اپنی ہی تدبیروں سے ہر گز نہیں پاسکتے بلکہ اس راہ میں صراط مستقیم صرف یہ ہے کہ پہلے ہم اپنی زندگی معہ اپنی تمام قوتوں کے خدا تعالیٰ کی راہ میں ۳۸ ) وقف کر کے پھر خدا کے وصال کے لئے دعا میں لگے رہیں تا خدا کو خدا ہی کے ذریعہ سے پاویں۔ ایک پیاری دعا اور سب سے زیادہ پیاری دعا جو عین محل اور موقعہ سوال کا ہمیں سکھاتی ہے اور فطرت کے روحانی جوش کا نقشہ ہمارے سامنے رکھتی ہے وہ دعا ہے جو خدائے کریم نے اپنی پاک کتاب قرآن شریف میں یعنی سورہ فاتحہ میں ہمیں سکھائی ہے اور وہ یہ ہے بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ - اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ تمام پاک تعریفیں جو ہوسکتی ہیں۔ اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پیدا کرنے والا اور قائم رکھنے والا ہے۔ الرَّحْمنِ الرَّحِیمِ ۔ وہی خدا جو ہمارے اعمال سے پہلے ہمارے لئے رحمت کا سامان میسر کرنے والا ہے اور ہمارے اعمال کے بعد رحمت کے ساتھ جزا دینے والا ہے۔ ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ وہ خدا جو جزاء کے دن کا وہی ایک مالک ہے۔ کسی اور کو وہ دن نہیں سونپا گیا۔ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اے وہ جو ان تعریفوں کا جامع ہے ہم تیری ہی پرستش کرتے ہیں ۔ اور ہم ہر ایک کام میں توفیق تجھ ہی سے چاہتے ہیں۔ اس جگہ ہم کے لفظ سے پرستش کا اقرار کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہمارے تمام قومی تیری پرستش میں لگے ہوئے ہیں اور تیرے آستانہ پر جھکے ہوئے ہیں کیونکہ انسان باعتبار اپنے اندرونی قومی کے ایک جماعت اور ایک امت ہے اور اس طرح پر تمام قومی کا خدا کو سجدہ کرنا یہی وہ حالت ہے جس کو اسلام کہتے ہیں۔ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ہمیں اپنی سیدھی راہ دکھا اور اس پر ثابت قدم کر کے ان لوگوں کی راہ دکھلا جن پر تیرا انعام واکرام ہے اور تیرے مورد فضل و کرم ہو گئے ہیں غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ اور ہمیں الفاتحة : اتا