اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 386
روحانی خزائن جلد ۱۰ اسلامی اصول کی فلاسفی نہیں ہوسکتی جب تک آسمانی مدد اس کے شامل حال نہ ہو۔ نفس لوامہ کے مرتبہ پر انسان کا یہ حال ہوتا ہے کہ بار بار تو بہ کرتا اور بار بار گرتا ہے بلکہ بسا اوقات اپنی صلاحیت سے نا امید ہو جاتا ہے اور اپنے مرض کو نا قابل علاج سمجھ لیتا ہے اور ایک مدت تک ایسا ہی رہتا ہے اور پھر جب وقت مقدر پورا ہو جاتا ہے تو رات یا دن کو یک دفعہ ایک نور اس پر نازل ہوتا ہے اور اس نور میں الہی قوت ہوتی ہے۔ اس نور کے نازل ہونے کے ساتھ ہی ایک عجیب تبدیلی اس کے اندر پیدا ہو جاتی ہے اور غیبی ہاتھ کا ایک قومی تصرف محسوس ہوتا ہے اور ایک عجیب عالم سامنے آ جاتا ہے۔ اس وقت انسان کو پتہ لگتا ہے کہ خدا ہے اور آنکھوں میں وہ نور آ جاتا ہے جو پہلے نہیں تھا لیکن اس راہ کو کیونکر حاصل کریں اور اس روشنی کو کیونکر پاویں۔ سو جاننا چاہیے کہ اس دنیا میں جو دار الاسباب ہے ہر ایک معلول کے لئے ایک علت ہے اور ہر ایک حرکت کے لئے ایک محرک ہے اور ہر ایک علم حاصل کرنے کے لئے ایک راہ ہے جس کو صراط مستقیم کہتے ہیں۔ دنیا میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو بغیر پابندی ان قواعد کے مل سکے جو قدرت نے ابتدا سے اس کے لئے مقرر کر رکھے ہیں۔ قانون قدرت بتلا رہا ہے کہ ہر ایک چیز کے حصول کے لئے ایک صراط مستقیم ہے اور اس کا حصول اسی پر قدرتا موقوف ہے مثلاً اگر ہم ایک اندھیری کوٹھڑی میں بیٹھے ہوں اور آفتاب کی روشنی کی ضرورت ہو تو ہمارے لئے یہ صراط مستقیم ہے کہ ہم اس کھڑکی کو کھول دیں جو آفتاب کی طرف ہے۔ تب یک دفعہ آفتاب کی روشنی اندر آ کر ہمیں منور کر دے گی۔ سوظاہر ہے که اسی طرح خدا کے بچے اور واقعی فیوض پانے کے لئے بھی کوئی کھڑ کی اور پاک روحانیت کے حاصل کرنے کے لئے کوئی خاص طریق ہو گا اور وہ یہ ہے کہ روحانی امور کے لئے صراط مستقیم کی تلاش کریں جیسا کہ ہم اپنی زندگی کے تمام امور میں اپنی کامیابیوں کے لئے صراط مستقیم کی تلاش کرتے رہتے ہیں مگر کیا وہ یہ طریق ہے کہ ہم صرف اپنی ہی عقل کے زور سے اور اپنی ہی خود تراشیدہ باتوں سے خدا کے وصال کو ڈھونڈیں۔ کیا محض ہماری ہی اپنی منطق اور فلسفہ سے اس کے وہ دروازے ہم پر کھلتے ہیں جن کا کھلنا اس کے قوی ہاتھ پر موقوف ہے۔ یقیناً سمجھو