اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 388 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 388

روحانی خزائن جلد ۱۰ ٣٨٢ اسلامی اصول کی فلاسفی ان لوگوں کی راہوں سے بچا جن پر تیرا غضب ہے اور جو تجھ تک نہیں پہنچ سکے اور راہ کو بھول گئے ۔ آمین۔اے خدا! ایسا ہی کر۔ یہ آیات سمجھا رہی ہیں کہ خدا تعالیٰ کے انعامات جو دوسرے لفظوں میں فیوض کہلاتے ہیں انہی پر نازل ہوتے ہیں جو اپنی زندگی کی خدا کی راہ میں قربانی دے کر اور اپنا تمام وجود اس کی راہ میں وقف کر کے اور اس کی رضا میں محو ہو کر پھر اس وجہ سے دعا میں لگے رہتے ہیں کہ تا جو کچھ انسان کو روحانی نعمتوں اور خدا کے قرب اور وصال اور اس کے مکالمات اور مخاطبات میں سے مل سکتا ہے وہ سب ان کو ملے اور اس دعا کے ساتھ اپنے تمام قومی سے عبادت بجالاتے ہیں اور گناہ سے پر ہیز کرتے اور آستانہ الہی پر پڑے رہتے ہیں اور جہاں تک ان کے لئے ممکن ہے اپنے تئیں بدی سے بچاتے ہیں اور غضب الہی کی راہوں سے دور رہتے ہیں۔ سو چونکہ وہ ایک اعلیٰ ہمت اور صدق کے ساتھ خدا کو ڈھونڈتے ہیں اس لئے اس کو پالیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی پاک معرفت کے پیالوں سے سیراب کئے جاتے ہیں۔ اس آیت میں جو استقامت کا ذکر فرمایا سیہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ سچا اور کامل فیض جو روحانی عالم تک پہنچاتا ہے ، کامل استقامت سے وابستہ ہے اور کامل استقامت سے مراد ایک ایسی حالت صدق و وفا ہے جس کو کوئی امتحان (۲۹) ضرر نہ پہنچا سکے یعنی ایسا پیوند ہو جس کو نہ تلوار کاٹ سکے نہ آگ جلا سکے اور نہ کوئی دوسری آفت نہ نہ نقصان پہنچا سکے۔ عزیزوں کی موتیں اس سے علیحدہ نہ کر سکیں۔ پیاروں کی جدائی اس میں خلل انداز نہ ہو سکے ۔ بے آبروئی کا خوف کچھ رعب نہ ڈال سکے۔ ہولناک دکھوں سے مارا جانا ایک ذرہ دل کو نہ ڈرا سکے۔ سو یہ دروازہ بہت تنگ ہے اور یہ راہ نہایت دشوار گذار ہے۔ کس قدر مشکل ہے۔ آہ ! صد آہ!! اسی کی طرف اللہ جل شانہ ان آیات میں اشارہ فرماتا ہے۔ قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَ عَشِيْرَ تُكُمْ وَأَمْوَالُ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسْكِنُ