اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 323
روحانی خزائن جلدها ۳۲۱ اسلامی اصول کی فلاسفی آخر وہ چشم پر آب ہو جاتا ہے اور جس کو خوشی ہو آخر وہ تبسم کرتا ہے۔ جس قدر ہمارا کھانا، پینا، سونا، جاگنا، حرکت کرنا، آرام کرنا غسل کرنا وغیرہ افعال طبعیہ ہیں۔ یہ تمام افعال ضروری ہمارے روحانی حالات پر اثر کرتے ہیں۔ ہماری جسمانی بناوٹ کا ہماری انسانیت سے بڑا تعلق ہے۔ ☆ دماغ کے ایک مقام پر چوٹ لگنے سے یکلخت حافظہ جاتا جاتا ہے اور دوسرے مقام پر چوٹ لگنے سے ہوش و حواس رخصت ہوتے ہیں۔ وباء کی ایک زہریلی ہوا کس قدر جلدی سے جسم میں اثر کر کے پھر دل میں اثر کرتی ہے۔ اور دیکھتے دیکھتے وہ اندرونی سلسلہ جس کے ساتھ تمام نظام اخلاق کا ہے درہم برہم ہونے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ انسان دیوانہ سا ہوکر چند منٹ میں گذر جاتا ہے۔ غرض جسمانی صدمات بھی عجیب نظارہ دکھاتے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ روح اور جسم کا ایک ایسا تعلق ہے کہ اس راز کو کھولنا انسان کا کام نہیں۔ اس سے زیادہ اس تعلق کے ثبوت پر (۷) یہ دلیل ہے کہ غور سے معلوم ہوتا ہے کہ روح کی ماں جسم ہی ہے۔ حاملہ عورتوں کے پیٹ میں روح کبھی اوپر سے نہیں گرتی بلکہ وہ ایک نور ہے جو نطفہ میں ہی پوشیدہ طور پر مخفی ہوتا ہے اور جسم کی نشو و نما کے ساتھ چمکتا جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کا پاک کلام ہمیں سمجھاتا ہے کہ روح اس قالب میں سے ہی ظہور پذیر ہو جاتی ہے جو نطفہ سے رحم میں تیار ہوتا ہے جیسا کہ وہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ ثُمَّ انْشَأْنُهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ اللهُ أَحْسَنُ الْخُلِقِينَ یعنی پھر ہم اس جسم کو جو رحم میں تیار ہوا تھا ایک اور پیدائش کے رنگ میں لاتے ہیں۔ اور ایک اور خلقت اس کی ظاہر کرتے ہیں جو روح کے نام سے موسوم ہے اور خدا بہت برکتوں والا ہے اور ایسا خالق ہے کہ کوئی اس کے برابر نہیں۔ اور یہ جو فرمایا کہ ہم اسی جسم میں سے ایک اور پیدائش ظاہر کرتے ہیں۔ یہ ایک گہرا راز ہے جو روح کی حقیقت دکھلا رہا ہے اور ان نہایت مستحکم تعلقات کی طرف اشارہ کر رہا ہے جو روح اور جسم کے درمیان واقع ہیں اور یہ اشارہ ہمیں اس بات کی بھی تعلیم دیتا ہے کہ انسان کے جسمانی اعمال اور سہو کتابت معلوم ہوتا ہے بمطابق مسودہ ” جاتا رہتا ہے “ ہونا چاہیے۔ (ناشر) ل المؤمنون: ۱۵