اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 324
روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۲۲ اسلامی اصول کی فلاسفی اقوال اور تمام طبعی افعال جب خدا تعالیٰ کے لئے اور اس کی راہ میں ظاہر ہونے شروع ہوں تو ان سے بھی یہی الہی فلاسفی متعلق ہے یعنی ان مخلصانہ اعمال میں بھی ابتدا ہی سے ایک روح مخفی ہوتی ہے جیسا کہ نطفہ میں مخفی تھی اور جیسے جیسے ان اعمال کا قالب تیار ہوتا جائے وہ روح چمکتی جاتی ہے۔ اور جب وہ قالب پورا تیار ہو چکتا ہے تو ایک دفعہ وہ روح اپنی کامل تجلی کے ساتھ چمک اٹھتی ہے اور اپنی روحی حیثیت سے اپنے وجود کو دکھا دیتی ہے اور زندگی کی صریح حرکت شروع ہو جاتی ہے جبھی کہ اعمال کا پورا قالب تیار ہو جاتا ہے ۔ معا بجلی کی طرح ایک چیز اندر سے اپنی کھلی کھلی چمک دکھلا نا شروع کر دیتی ہے ۔ یہ وہی زمانہ ہوتا ہے جس کی نسبت اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں مثالی طور سے فرماتا ہے۔ فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ ! یعنی جب میں نے اس کا قالب بنا لیا اور تجلیات کے تمام مظاہر درست کر لئے اور اپنی روح اس میں پھونک دی تو تم سب لوگ اس کے لئے زمین پر سجدہ کرتے ہوئے گر جاؤ۔ سو اس آیت میں یہی اشارہ ہے کہ جب اعمال کا پورا قالب تیار ہو جاتا ہے تو اس قالب میں وہ روح چمک اٹھتی ہے۔ جس کو خدا تعالیٰ اپنی ذات کی طرف منسوب کرتا ہے کیونکہ د نیوی زندگی کے فنا کے بعد وہ قالب تیار ہوتا ہے اس لئے الہی روشنی جو پہلے دھیمی تھی یک دفعہ بھڑک اٹھتی ہے۔ اور واجب ہوتا ہے کہ خدا کی ایسی شان کو دیکھ کر ہر ایک سجدہ کرے اور اس کی طرف کھینچا جائے ۔ سو ہر ایک اس نور کو دیکھ کر سجدہ کرتا ہے ۔ اور طبعاً اس طرف آتا ہے بجز ابلیس کے جو تاریکی سے دوستی رکھتا ہے۔ اس جگہ ایک اور نکتہ بیان کرنا فائدہ سے خالی نہیں اور وہ یہ ہے کہ رحم میں جو بچہ پیدا ہوتا ہے وہ چار ماہ دس دن کے بعد حرکت کرتا ہے اور یہ زمانہ قریباً اس زمانہ سے آدھا الحجر : ۳۰ ملا اس نشان سے لے کر صفحہ ۳۲۲ د کے جید نشان تک کی عبارت اصل مسودہ میں موجود ہے جبکہ رپورٹ اور ایڈیشن اوّل میں لکھنے سے رہ گئی ہے۔ موجودہ ایڈیشن میں اسے حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ کی اجازت سے شامل کیا جارہا ہے۔ (ناشر)