اِسلامی اُصول کی فلاسفی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 322 of 550

اِسلامی اُصول کی فلاسفی — Page 322

روحانی خزائن جلد ۱۰ ۳۲۰ اسلامی اصول کی فلاسفی شعلہ اٹھ کر دل پر جا پڑتا ہے۔ تب دل بھی آنکھوں کی پیروی کر سکے غمگین ہو جاتا ہے۔ ایسا ہی جب ہم تکلف سے ہنسنا شروع کریں تو دل میں بھی ایک انبساط پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ بھی دیکھا (1) جاتا ہے کہ جسمانی سجدہ بھی روح میں خشوع اور عاجزی کی حالت پیدا کرتا ہے۔ اس کے مقابل پر ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ جب ہم گردن کو اونچی کھینچ کر اور چھاتی کو ابھار کر چلیں تو یہ وضع رفتار ہم میں ایک قسم کا تکبر اور خود بینی پیدا کرتی ہے۔ تو ان نمونوں سے پورے انکشاف کے ساتھ کھل جاتا ہے کہ بے شک جسمانی اوضاع کا روحانی حالتوں پر اثر ہے۔ ایسا ہی تجربہ ہم پر ظاہر کرتا ہے کہ طرح طرح کی غذاؤں کا بھی دماغی اور دلی قوتوں پر ضرور اثر ہے مثلاً ذرا غور سے دیکھنا چاہیے کہ جو لوگ کبھی گوشت نہیں کھاتے رفتہ رفتہ ان کی شجاعت کی قوت کم ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ نہایت دل کے کمزور ہو جاتے ہیں اور ایک خدا داد اور قابل تعریف قوت کو کھو بیٹھتے ہیں۔ اس کی شہادت خدا کے قانون قدرت سے اس طرح پر بھی ملتی ہے کہ چارپایوں میں سے جس قدر گھاس خور جانور ہیں کوئی بھی ان میں سے وہ شجاعت نہیں رکھتا جو ایک گوشت خوار جانور رکھتا ہے۔ پرندوں میں بھی یہی بات مشاہدہ ہوتی ہے۔ پس اس میں کیا شک ہے کہ اخلاق پر غذاؤں کا اثر ہے ہاں جولوگ دن رات گوشت خواری پر زور دیتے ہیں اور نباتی غذاؤں سے بہت ہی کم حصہ رکھتے ہیں وہ بھی حلم اور انکسار کے خُلق میں کم ہو جاتے ہیں اور میانہ روش کو اختیار کرنے والے دونوں خلق کے وارث ہوتے ہیں۔ اسی حکمت کے لحاظ سے خدا تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ كُلُوا وَاشْرَبُوْا وَلَا تُسْرِفُوا ل یعنی گوشت بھی کھاؤ اور دوسری چیزیں بھی کھاؤ مگر کسی چیز کی حد سے زیادہ کثرت نہ کرو تا اس کا اخلاقی حالت پر بداثر نہ پڑے اور تا یہ کثرت مضر صحت بھی نہ ہو اور جیسا کہ جسمانی افعال اور اعمال کا روح پراثر پڑتا ہے ایساہی کبھی روح کا اثر بھی جسم پر جا پڑتا ہے۔ جس شخص کو کوئی غم پہنچے الاعراف: ۳۲