اسلام (لیکچر سیالکوٹ)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 245 of 597

اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 245

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۴۵ لیکچر سیالکوٹ بار کا حواری بارہ تختوں پر بہشت میں بیٹھیں گے مگر وہ بارہ کے گیارہ رہ گئے اور ایک مرتد ہو (۵۵) گیا اور ایسا ہی اُس نے کہا تھا کہ اس زمانہ کے لوگ نہیں مریں گے جب تک کہ میں واپس آجاؤں حالانکہ وہ زمانہ کیا اٹھارہ صدیوں کے لوگ قبروں میں جا پڑے اور وہ اب تک نہیں آیا اور اُسی زمانہ میں اس کی پیشگوئی جھوٹی نکلی اور اس نے کہا تھا کہ میں یہودیوں کا بادشاہ ہوں مگر کوئی بادشاہت اس کو نہ ملی۔ ایسے ہی اور بہت اعتراض ہیں۔ ایسا ہی اس زمانہ میں بعض نا پاک طبع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض پیشگوئیوں پر اعتراض کر کے کل پیشگوئیوں سے انکار کرتے ہیں اور بعض حدیبیہ کے قصہ کو پیش کرتے ہیں۔ اب اگر ایسے اعتراض تسلیم کے لائق ہیں تو مجھے ان لوگوں پر کیا افسوس ۔ مگر یہ خوف ہے کہ اس طریق کو اختیار کر کے کہیں اسلام کو ہی الوداع نہ کہ دیں۔ تمام نبیوں کی پیشگوئیوں میں ایسا ہی میری پیشگوئیوں میں بعض اجتہادی دخل بھی ہوتے ہیں جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حدیبیہ کے سفر میں بھی اجتہادی دخل تھا۔ تب ہی تو آپ نے سفر کیا تھا مگر وہ اجتہاد صحیح نہ نکلا ۔ نبی کی شان اور جلالت اور عزت میں اس سے کچھ فرق نہیں آتا کہ کبھی اس کے اجتہاد میں غلطی بھی ہو۔ اگر کہو کہ اس سے امان اُٹھ جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ کثرت کا پہلو اس امان کو محفوظ رکھتا ہے۔ کبھی نبی کی وحی خبر واحد کی طرح ہوتی ہے اور مع ذالک مجمل ہوتی ہے۔ اور کبھی وحی ایک امر میں کثرت سے اور واضح ہوتی ہے۔ پس اگر مجمل وحی میں اجتہاد کے رنگ میں کوئی غلطی بھی ہو جائے تو بینات محکمات کو اس سے کچھ صدمہ نہیں پہنچتا۔ پس میں اس سے انکار نہیں کر سکتا کہ کبھی میری وحی بھی خبر واحد کی طرح ہو اور مجمل ہو اور اس کے سمجھنے میں اجتہادی رنگ کی غلطی ہو۔ اس بات میں تمام انبیاء شریک ہیں۔ لعنة الله على الکاذبین اور ساتھ اس کے یہ بھی ہے کہ وعید کی پیشگوئیوں میں خدا پر فرض نہیں ہے کہ اُن کو ظہور میں لاوے۔ یونس کی پیشگوئی اس پر شاہد ہے اس پر تمام انبیاء کا