اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 246
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۴۶ لیکچر سیالکوٹ اتفاق ہے کہ خدا کے ارادے جو وعید کے رنگ میں ہوں صدقہ اور دعا سے مل سکتے ہیں۔ پس اگر وعید کی پیشگوئی مثل نہیں سکتی تو صدقہ اور دعالا حاصل ہے۔ اب ہم اس تقریر کو ختم کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا شکر کرتے ہیں جس نے باوجود علالت اور ضعف جسمانی کے اس کے لکھنے کی ہمیں توفیق دی۔ اور ہم جناب الہی میں دعا کرتے ہیں کہ اس تقریر کو بہتوں کے لئے موجب ہدایت کرے اور جیسا کہ اس مجمع میں ظاہری اجتماع نظر آ رہا ہے ایسا ہی تمام دلوں میں ہدایت کے سلسلہ میں با ہم ربط اور محبت پیدا کر دے اور ہر ایک طرف ہدایت کی ہوا چلا دے۔ بغیر آسمانی روشنی کے آنکھیں کچھ نہیں دیکھ سکتیں۔ سو خدا آسمان سے روحانی روشنی کو نازل کرے تا آنکھیں دیکھ سکیں اور غیب سے ہوا پیدا کرے تا کان سنیں ۔ کون ہے جو ہماری طرف آ سکتا ہے مگر وہی جس کو خدا ہماری طرف کھینچے۔ وہ بہتوں کو کھینچ رہا ہے اور کھینچے گا اور کئی قفل توڑے گا۔ ہمارے دعوی کی جڑھ حضرت عیسی کی وفات ہے۔ اس جڑھ کو خدا اپنے ہاتھ سے پانی دیتا ہے اور رسول اس کی حفاظت کرتا ہے۔ خدا نے قول سے اور اس کے رسول نے فعل سے یعنی اپنی چشم دید رؤیت سے گواہی دی ہے کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے اور آپ نے معراج کی رات میں حضرت عیسی علیہ السلام کو فوت شدہ ارواح میں دیکھ لیا ہے مگر افسوس کہ پھر بھی لوگ اُن کو زندہ سمجھتے ہیں اور ان کو ایسی خصوصیت دیتے ہیں جو کسی نبی کو خصوصیت نہیں دی گئی۔ یہی امور ہیں جن سے حضرت مسیح کی الوہیت کو عیسائیوں کے زعم میں قوت پہنچتی ہے اور بہت سے کچے آدمی ایسے عقائد سے ٹھو کر کھاتے ہیں۔ ہم گواہ ہیں کہ خدا نے ہمیں خبر دی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے۔ اب اُن کے زندہ کرنے میں دین کی ہلاکت ہے اور اس خیال میں لگنا خواہ مخواہ کی خاک پیزی ہے ۔ اسلام میں پہلا اجماع یہی تھا کہ کوئی نبی گذشتہ نبیوں میں سے زندہ نہیں ہے جیسا کہ آیت مَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولٌ