اسلام (لیکچر سیالکوٹ)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 244 of 597

اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 244

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۴۴ لیکچر سیالکوٹ عظیم الشان نشان میں شک کرے تو اس کو دنیا میں اس کی نظیر دکھلانا چاہیے اور اس کے سوا اور بہت سے نشان ہیں جن سے اس ملک کو اطلاع ہے۔ بعض نادان جن کو حق کا قبول کرنا منظور ہی نہیں وہ ثابت شدہ نشانوں سے کچھ بھی فائدہ نہیں اُٹھاتے اور بے ہودہ نکتہ چینیوں (۵۲) سے گریز کی راہ ڈھونڈتے ہیں اور ایک دو پیشگوئیوں پر اعتراض کر کے باقی ہزارہا پیشگوئیوں اور کھلے کھلے نشانوں پر خاک ڈالتے ہیں۔ افسوس کہ وہ جھوٹ بولتے وقت ایک ذرہ خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتے اور افترا کے وقت آخرت کے مواخذہ کو یاد نہیں کرتے ۔ مجھے ضرورت نہیں کہ اُن کے افتراؤں کی تفصیل بیان کر کے سامعین کو اُن کے سب حالات سناؤں۔ اگر اُن میں تقویٰ ہوتا۔ اگر اُن کو ایک ذرہ خدا تعالیٰ کا خوف ہوتا تو خدا کے نشانوں کی تکذیب میں جلدی نہ کرتے اور اگر بفرض محال کوئی نشان اُن کو سمجھ میں نہ آتا تو انسانیت اور نرمی سے اس کی حقیقت مجھ سے پوچھ لیتے ۔ ایک بڑا اعتراض اُن کا یہ ہے کہ آتھم میعاد کے اندر نہیں مرا۔ اور احمد بیگ اگر چہ پیشگوئی کے مطابق مر گیا مگر داماد اس کا جواسی پیشگوئی میں داخل تھا نہ مرا۔ یہ ان لوگوں کا تقویٰ ہے کہ ہزار ہا ثابت شدہ نشانوں کا تو ذکر تک منہ پر نہیں لاتے اور ایک دو پیشگوئیاں جو اُن کی سمجھ میں نہ آئیں بار بار اُن کو ذکر کرتے ہیں اور ہر ایک مجمع میں شور ڈالتے ہیں۔ اگر خدا کا خوف ہوتا تو ثابت شدہ نشانوں اور پیشگوئیوں سے فائدہ اُٹھاتے۔ یہ طریق راست باز انسانوں کا نہیں ہے کہ کھلے کھلے معجزات سے منہ پھیر لیں اور اگر کوئی دقیق امر ہو تو اُس پر اعتراض کر دیں۔ اس طرح پر تو تمام انبیاء پر اعتراضات کا دروازہ کھل جائے گا اور آخر کار اس طبیعت کے لوگوں کو سب سے دست بردار ہونا پڑے گا۔ مثلاً حضرت عیسی علیہ السلام کے صاحب معجزات ہونے میں کیا کلام ہے مگر ایک شریر مخالف کہہ سکتا ہے کہ اُن کی بعض پیشگوئیاں جھوٹی نکلیں جیسا کہ اب تک یہودی کہتے ہیں کہ یسوع مسیح کی کوئی بھی پیشگوئی پوری نہیں ہوئی۔ اُس نے کہا تھا کہ میرے