اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 243
روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۴۳ لیکچر سیالکوٹ واقف تھا۔ پس اب سوچو اور غور کرو کہ میری کتاب براہین احمدیہ میں اس شہرت اور رجوع خلائق سے چوبیس سال پہلے میری نسبت ایسے وقت میں پیشگوئی کی گئی ہے کہ جبکہ میں لوگوں کی نظر میں کسی حساب میں نہ تھا۔ اگر چہ میں جیسا کہ میں نے بیان کیا۔ براہین کی تالیف کے زمانہ کے قریب اسی شہر میں قریباً سات سال رہ چکا۔ تا ہم آپ صاحبوں میں ایسے لوگ کم ہوں گے جو مجھ سے واقفیت رکھتے ہوں کیونکہ میں اس وقت ایک گمنام آدمی تھا اور اَحَدٌ مِنَ النَّاسِ تھا اور میری کوئی عظمت اور عزت لوگوں کی نگاہ میں نہ تھی۔ مگر وہ زمانہ میرے لئے نہایت شیریں تھا کہ انجمن میں خلوت تھی اور کثرت میں وحدت تھی اور شہر میں میں ایسا رہتا تھا جیسا کہ ایک شخص جنگل میں ۔ مجھے اس زمین سے ایسی ہی محبت ہے جیسا کہ قادیان سے کیونکہ میں اپنے اوائل زمانہ کی عمر میں سے ایک حصہ اس میں گزار چکا ہوں اور اس شہر کی گلیوں میں بہت سا پھر چکا ہوں۔ میرے اس زمانہ کے دوست اور مخلص اس شہر میں ایک بزرگ ہیں یعنی حکیم حسام الدین صاحب جن کو اس وقت بھی مجھ سے بہت محبت رہی ہے۔ وہ شہادت دے سکتے ہیں کہ وہ کیسا زمانہ تھا اور کیسی گمنامی کے گڑھے میں میرا وجود تھا۔ اب ۵۳) میں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ ایسے زمانہ میں ایسی عظیم الشان پیشنگوئی کرنا کہ ایسے گمنام کا آخر کار یہ عروج ہوگا کہ لاکھوں لوگ اُس کے تابع اور مرید ہو جاویں گے اور فوج در فوج لوگ بیعت کریں گے۔ اور باوجود دشمنوں کی سخت مخالفت کے رجوع خلائق میں فرق نہیں آئے گا بلکہ اس قدر لوگوں کو کثرت ہوگی کہ قریب ہوگا کہ وہ لوگ تھکا دیں کیا یہ انسان کے اختیار میں ہے؟ اور کیا ایسی پیشگوئی کوئی مکار کر سکتا ہے کہ چوبیس سال پہلے تنہائی اور بیکسی کے زمانہ میں اس عروج اور مرجع خلائق ہونے کی خبر دے؟ کتاب براہین احمدیہ جس میں یہ پیشگوئی ہے کوئی گمنام کتاب نہیں بلکہ وہ اس ملک میں مسلمانوں، عیسائیوں اور آریہ صاحبوں کے پاس بھی موجود ہے اور گورنمنٹ میں بھی موجود ہے۔ اگر کوئی اس حمد سہو کتابت معلوم ہوتا ہے کی “ہونا چاہیے۔ (ناشر )