اسلام (لیکچر سیالکوٹ)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 217 of 597

اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 217

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۱۷ لیکچر سیالکوٹ ہوا یا نہیں۔ یہی قرآن شریف نے فیصلہ کرنا تھا۔ پس اگر آیت بَلْ زَفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ سے یہ مطلب ہے کہ خدا تعالیٰ نے حضرت عیسی کو معہ جسم عصری دوسرے آسمان پر اٹھا لیا تو اس کارروائی سے متنازعہ فیہ امر کا کیا فیصلہ ہوا؟ گویا خدا نے امر متنازعہ فیہ کو سمجھا ہی نہیں اور وہ فیصلہ دیا جو یہودیوں کے دعوی سے کچھ بھی تعلق نہیں رکھتا ۔ پھر آیت میں تو یہ صاف لکھا ہے کہ عیسی کا رفع خدا کی طرف ہوا۔ یہ تو نہیں لکھا کہ دوسرے آسمان کی طرف رفع ہوا۔ کیا خدائے عزّ و جلّ دوسرے آسمان پر بیٹھا ہوا ہے؟ یا نجات اور ایمان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ جسم بھی ساتھ ہی اُٹھایا جائے اور عجب بات یہ ہے کہ آیت بَلْ رَّفَعَهُ اللهُ إِلَيْهِ میں آسمان کا ذکر بھی نہیں بلکہ اس آیت کے تو صرف یہ معنی ہیں کہ خدا نے اپنی طرف مسیح کو اُٹھا لیا۔ اب بتلاؤ کہ کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام ، حضرت اسماعیل ، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب ، حضرت موسیٰ اور آنحضرت صلعم نعوذ باللہ کسی اور طرف اُٹھائے گئے تھے خدا کی طرف نہیں؟ میں اس جگہ زور سے کہتا ہوں کہ اس آیت کی حضرت مسیح سے تخصیص سمجھنا یعنی رفع إلى الله انہیں کے ساتھ خاص کرنا اور دوسرے نبیوں کو اس سے باہر رکھنا یہ کلمہ کفر ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کوئی کفر نہ ہوگا کیونکہ ایسے معنوں سے باستثناء حضرت عیسی تمام انبیاء کو رفع سے جواب دیا گیا ہے حالانکہ آنحضرت صلعم نے معراج سے آکر ان کی رفع کی گواہی بھی دی اور یہ یاد رہے کہ حضرت عیسی کے رفع کا ذکر صرف یہودیوں کی تنبیہ اور دفع (۲۰) اعتراض کے لئے تھا ورنہ یہ رفع تمام انبیاء اور رسل اور مومنوں میں عام ہے۔ مرنے کے بعد ہر ایک مومن کا رفع ہوتا ہے چنانچہ آیت هَذَا ذِكُرُ وَإِنَّ لِلْمُتَّقِيْنَ لَحُسْنَ مَابٍ ۔ جَنَّتِ عَدْنٍ مُّفَتَحَةً لَّهُمُ الْأَبْوَابُ سے (سورۃ ص پاره ۲۳ ۱۳۶) میں اس رفع کی طرف اشارہ ہے لیکن کافر کا رفع نہیں ہوتا چنانچہ آیت لَا تُفَتحُ لَهُمْ أَبْوَابُ السَّمَاء " اس کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ ہاں جن لوگوں نے ا النساء : ۱۵۹ ۲ ص : ۵۱۵۰ الاعراف : ام