اسلام (لیکچر سیالکوٹ)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 216 of 597

اسلام (لیکچر سیالکوٹ) — Page 216

روحانی خزائن جلد ۲۰ ۲۱۶ لیکچر سیالکوٹ قریش کی خلافت کے وعدوں کو ختم کر دے گی ۔ غرض موسوی اور محمدی مماثلت کو پورا کرنے کے لئے ایسے مسیح موعود کی ضرورت تھی جو ان تمام لوازم کے ساتھ ظاہر ہوتا جیسا کہ سلسلہ اسلامیہ مثیل موسی" سے شروع ہوا۔ ایسا ہی وہ سلسلہ مثیل میسٹی پر ختم ہو جائے تا آخر کو اوّل سے مشابہت ہو ۔ پس یہ بھی میری سچائی کے لئے ایک ثبوت ہے لیکن ان لوگوں کے لئے جو ۱۸) خداترسی سے غور کرتے ہیں۔ خدا اس زمانہ کے مسلمانوں پر رحم کرے کہ اکثر ان کے اعتقادی اُمور ظلم اور نا انصافی میں حد سے گذر گئے ہیں۔ قرآن شریف میں پڑھتے ہیں کہ حضرت عیسی فوت ہو گئے اور پھر ان کو زندہ سمجھتے ہیں۔ ایسا ہی قرآن شریف میں سورہ نور میں پڑھتے ہیں کہ تمام خلیفے آنے والے اسی اُمت میں سے ہوں گے اور پھر حضرت عیسی کو آسمان سے اُتار رہے ہیں اور صحیح بخاری اور مسلم میں پڑھتے ہیں کہ وہ عیسی جو اس اُمت کے لئے آئے گاوہ اسی اُمت میں سے ہوگا ۔ پھر اسرائیلی عیسی کے منتظر ہیں اور قرآن شریف میں پڑھتے ہیں کہ عیسی دوبارہ دنیا میں نہیں آئے گا اور باوجود اس علم کے پھر اس کو دوبارہ دنیا میں لانا چاہتے ہیں اور با ایں ہمہ دعوی اسلام بھی ہے اور کہتے ہیں کہ حضرت عیسی آسمان پر زندہ معہ جسم عصری اُٹھائے گئے مگر اس کا جواب نہیں دیتے کہ کیوں اُٹھائے گئے ۔ یہود کا جھگڑا تو صرف رفع روحانی کے بارہ میں تھا اور اُن کا خیال تھا کہ ایمانداروں کی طرح حضرت عیسی کی روح آسمان پر نہیں اُٹھائی گئی کیونکہ وہ صلیب دیے گئے تھے اور جو صلیب دیا جائے وہ لعنتی ہے یعنی آسمان پر خدا کی طرف اس کی روح نہیں اُٹھائی جاتی اور قرآن شریف نے صرف اسی جھگڑے کو فیصلہ کرنا تھا جیسا کہ قرآن شریف کا دعوی ہے کہ وہ یہود و نصاری کی غلطیوں کو ظاہر کرتا ہے اور ان کے تنازعات کا فیصلہ کرتا ہے اور یہود کا جھگڑا تو یہ تھا کہ عیسی مسیح ایماندار لوگوں میں سے نہیں ہے اور اس کی نجات نہیں ہوئی اور اس کی روح کا رفع خدا تعالی کی طرف نہیں ہوا۔ پس فیصلہ طلب یہ امر تھا کہ عیسی مسیح ایماندار 19 اور خدا کا سچا نبی ہے یا نہیں اور اس کی روح کا رفع مومنوں کی طرح خدا تعالیٰ کی طرف