اِعجاز احمدی — Page 171
روحانی خزائن جلد ۱۹ 121 اعجاز احمدی نعیمه نزول المسیح فَلَمَّا اَجَزُنَا سَاحَةَ الْكِبْرِ كُلَّهَا أَتَانِي مِنَ الرَّحْمَنِ وَحْيٌ يُكَبِّرُ پس جبکہ ہم تکبر کے میدان سے بہت دور نکل گئے اور سب میدان ملے کر لیا۔ تب خدا کی وحی میرے پاس آئی جس نے مجھے بڑا بنا دیا إِذَا قِيْلَ إِنَّكَ مُرْسَلٌ خِلْتُ اَنَّنِي دُعِيْتُ إِلَى أَمْرٍ عَلَى الْخَلْقِ يَعْسُرُ جب یہ کہا گیا کہ تو خدا کی طرف سے بھیجا گیا۔ تو میں نے خیال کیا کہ میں ایسے امر کی طرف بلایا گیا کہ جولوگوں پر بھاری ہوگا وَلَوْ أَنَّ قَوْمِي أَنَسُونِى كَطَالِبٍ دَعَوْتُ لِيُعْطَوُا عَيْنَ عَقْلِ وَبُصِّرُوا اور اگر میرے پاس میری قوم طالب کی طرح آتی ۔ تو میں دعا کرتا کہ ان کو عقل دی جائے اور بینائی بخشی جائے وَلَكِنَّهُمْ عَابُوا وَأَذَوْا وَ زَوَّرُوا وَحَثُوا عَلَيَّ الْجَاهِلِينَ وَثَوَّرُوا مگر انہوں نے عیب جوئی کی اور دُ کھ دیا اور دروغ آرائی کی۔ اور جاہلوں کو میرے پر برانگیختہ کیا وَغَيَّرَنِي الْوَاشُونَ مِنْ غَيْرِ خُيْرَةٍ وَنَاشُوا ثِيَابِي مِنْ جُنُون واعْذَرُوا اور نکتہ چینوں نے بغیر آزمائش اور آگاہی کے مجھے سرزنش کی۔ اور جنون سے میرے کپڑے پکڑ لئے اور اس کام میں میرا مبالغہ کیا ☆ عَجِبْتُ لَهُمْ فِي حَرُبِنَا كَيْفَ خَالَطُوا وَلَمْ يَبْقَ ضِعُنٌ بَيْنَهُمْ وَتَنَمُّرُ میں نے ان سے تعجب کیا۔ ہماری لڑائی میں وہ کیسے باہم مل گئے ۔ اور ان کے درمیان باہم کوئی درندگی اور کینہ نہ رہا وَ قَضَّوا مَطَاعِنُ بَيْنَهُمْ ثُمَّ أَصْدَرُوا إِلَيْنَا الْاسِنَّةَ وَالْخَنَاجِرَ شَهْرُوا ایک مدت تک تو ایک دوسرے پر طعن کرتے رہے۔ پھر ہماری طرف انہوں نے نیزے پھیر دیئے اور تلواریں کھینچیں فَقُلْتُ لَهُمْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَالَكُمْ أَثَرْتُمْ غُبَارًا مِنْ كَلامِ تُزَوَّرُ پس میں نے اُن سے کہا کہ اے لوگو ! تمہیں کیا ہو گیا۔ تم نے ایک جھوٹی بات سے اس قد رغبارانگیزی کی عَلَى الْحُمُقِ جَيَّاشُونَ مِنْ غَيْرِ فِطْنَةٍ كَمَا زَلَّتِ الصَّفْوَاءُ حِينَ تُكَوِّرُ محض حماقت سے جوش کرنے والے بغیر دانائی کے۔ جیسا کہ ایک صاف پتھر نیچے پھینکنے سے جلد تر نیچے کو پھسل جاتا ہے فَمَا بَرِحَتْ أقْدَامُنَا مَوْطِنَ الْوَغَى وَمَا ضَعُفَتْ حَتَّى أَعَانَ الْمُطَفِّرُ (٢٠) پس ہمارے قدم جنگ گاہ سے الگ نہ ہوئے اور نہ ہم تھکے یہاں تک کہ خدا نے ہمیں فتح دی حمد سہو کا تب ہے۔ دراصل یہ لفظ سراسر“ ہے۔ (شمس)