اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 172 of 566

اِعجاز احمدی — Page 172

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۷۲ اعجاز احمدی ضمیمه نزول اسیح وَكُنتُ أَرَى الْإِسْلَامَ مِثْلَ حَدِيقَةٍ مُبَيَّدَةٍ مِّنْ عَيْنِ مَاءٍ يُنَفِّرُ اور میں اسلام کو اس باغ کی طرح دیکھتا تھا جو اس چشمہ سے دور ہو جو تر و تازہ کرتا ہے فَمَا زِلْتُ اسْقِيهَا وَأَسْقِي بِلادَهَا مِنَ الْمُزَن حَتَّى عَادَ حِبْرٌ مُّدَعْثَرُ پس میں اس باغ کو پانی دیتارہا اور اس کی زمینوں کو آسمانی بارش کا پانی یہاں تک کہ اس کی خوبصورتی ویران شدہ عود کر آئی وَجَاشَتُ إِلَيَّ النَّفْسُ مِنْ فِتْنَةِ الْعِدَا فَأَنْزَلَ رَبِّي حَرُبَةً لَّا تُكَسَّرُ اور میرا دل دشمنوں کے فتنہ سے نکلنے لگا۔ پس نازل کیا میرے رب نے ایک حربہ جو تو ڑا نہیں جائے گا فَاصْبَحْتُ أَسْتَقْرِى الرِّجَالَ رِجَالَهُمْ لِأُفُـحِـمَ قَوْمًا جَابِرِينَ وَ انْذِرُ پس میں نے صبح کی اور اُن لوگوں کی تلاش میں لگ گیا تا میں ظالموں پر اتمام حجت کروں وَقَدْ كَانَ بَابُ اللَّهُ مَرُكَزَ حَرْبِهِمْ كَلامٌ مُّضِلَّ لَّا حُسَامٌ مُشَهَّرُ اور ان کا طرز جنگ صرف زبانی خصومت تھی یعنی محض گمراہ کرنے والی باتوں کو پیش کرتے اور مذہب کے لئے تلوار کی لڑائی نہ تھی فَوَافَيْتُ مَجْمَعُ لَدْهِم وَقَتَلْتُهُمْ بِضَرْبٍ وَلَمْ أَكْسَلُ وَلَمْ أَتَحَسَّرُ پس میں لڑنے والوں کے مجمع میں آیا اور ایک ہی ضرب سے (انہیں) قتل کر دیا اور نہ میں سست ہوا اور نہ ماندہ ہوا وَإِنِّي أَنَا الْمَوْعُوُدُ وَالْقَائِمُ الَّذِى بِهِ تُمْلَأَنَّ الْأَرْضُ عَدْلًا وَّ تُثْمِرُ اور میں مسیح موعود اور وہ امام قائم ہوں جو زمین کو عدل سے بھرے گا اور ویران جنگلوں کو پھل دار کرے گا بِنَفْسِي تَجَلَّتْ طَلْعَةُ اللَّهِ لِلْوَرى فَيَا طَالِبِي رُشْدِ عَلَى بَابِيَ احْضُرُوا میرے ساتھ صورت خدا کی خلقت پر ظاہر ہوگی ۔ پس اے ہدایت کے طالبو! میرے دروازے پر حاضر ہو جاؤ خُذُوا حَقَّكُمْ مِّنِّى فَإِنِّى إِمَامُكُمْ أُذَكِّرُكُمْ أَيَّامَكُمْ وَأُبَشِّرُ اپنا حصہ مجھے سے لے لو کہ میں تمہارا امام ہوں تمہیں تمہارے دن یاد دلاتا ہوں اور بشارت دیتا ہوں وَقَدْ جِئْتُكُمُ يَا قَوْمِ عِندَ ضَرُورَةٍ فَهَلْ مِنْ رَشِيدٍ عَاقِل يَتَدَبَّرُ اور اے میری قوم میں ضرورت کے وقت تمہارے پاس آیا ہوں۔ پس کیا کوئی تم میں رشید اور عقلمند ہے جو اس بات کو سوچے وَمَا الْبِرُّ إِلَّا تَرُكُ بُخْلٍ مِّنَ التَّقَى وَمَا الْبُخْلُ إِلَّا رَدُّ مَنْ يَّتَبَقَّرُ اور نیکی بجز اس کے کوئی چیز نہیں کہ تقویٰ کی راہ سے بل کو دور کر دیا جاوے اور بجل بجز اس کے کچھ نہیں کہ جس کا علم وسیع اور کامل ہے اور اپنے سے بہتر ہے اس کو قبول نہ کیا جائے