اِعجاز احمدی — Page 152
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۵۲ اعجاز احمدی ضمیمه نزول اسیح تَحَرَّوُا لِهَذَا الْبَحْثِ أَرْضًا شَجِيرَةً إِلَى الْجَانِبِ الْعَرْبِيِّ وَالْجُنُدُ جُمْرُوا اور بحث کیلئے ایک زمین اختیار کی گئی جس میں کی ایک کلو درخت تھے۔ اور وہ جگہ گاوں ے باہر غربی طرف تھی اور ہمارے دوست وہاں ٹھہرائے گئے فَكَانَ ثَنَاءُ اللَّهِ مَقْبُولَ قَوْمِهِ وَمِنَّا تَصَدَّى لِلتَخَاصُم سَرُوَرُ اور ثناء اللہ اس کی قوم کی طرف سے مقبول تھا۔ اور ہماری طرف سے مولوی سید محمد سرور شاہ پیش ہوئے كَأَنَّ مَقَامَ الْبَحْثِ كَانَ كَاجُمَةٍ بِهِ الذَّتْبُ يَعُوِى وَالغَضَنْفَرُ يَزْءَ رُ گو یا مقام بحث ایک ایسے بن کی طرح تھا۔ جس میں ایک طرف بھیڑ یا چینتا تھا اور ایک طرف شیر غز اتا تھا وَقَامَ تَنَاءُ اللَّهِ يُغْوِى جُنُودَهُ وَيُغْرِى عَلَى صَحْبِى لِتَامًا وَّ يَهْدُرُ اور کھڑا ہوا ثناء اللہ اپنی جماعت کو اغوا کر رہا تھا۔ اور میرے دوستوں پر برانگیختہ کرتا تھا وَكَانَ طَوَى كَشُحًا عَلَى مُسْتَكِنَّةٍ وَمَا رَادَ نَهْجَ الْحَقِّ بَلْ كَانَ يَهْجُرُ اور اُس نے کینہ کو اپنے دل میں ٹھان لیا۔ اور حق جوئی نہ کی بلکہ بکواس کرتا رہا سَعَى سَعْيَ فَتَّانِ لِتَكْذِيبِ دَعْوَتِي وَكَانَ يُدَسِّى مَا تَجَلَّى وَيَمْكُرُ اس نے فتنہ انگیز آدمی کی طرح میری دعوت کی تکذیب کی کوشش کی ۔ اور وہ حق پوشی کر رہا تھا اور مکر کر رہا تھا۔ وَأَظْهَرَ مَكْرًا سَوَّلَتْ نَفْسُهُ لَهُ وَلَمْ يَرْضَ طُوْلَ الْبَحْثِ فَالْقَوْمُ سُحْرُوا اور ایک مکر اُس نے ظاہر کیا جو اُس کے دل میں پیدا ہوا۔ اور لمبی بحث سے انکار کیا اور قوم اُس کے قریب میں آگئی فَشَقَّ عَلَى صَحْبَى طَريقٌ اَرَادَهُ وَقَدْظُنَّ أَنَّ الْحَقَّ يُخْفى وَيُسْتَرُ پس میرے دوستوں پر وہ طریق گراں گذرا جس کا اُس نے ارادہ کیا۔ اور انہوں نے گمان کیا کہ اس سے حق پوشیدہ رہ جائے گا اس میں سہو کتابت ہے اصل عبارت یوں ہو گی۔ جس میں کئی ایک درخت تھے۔‘ کا تب سے جب سہواً کئی“ کا لفظ چھوٹ گیا تو تصحیح عبارت کے لئے تھے کو تھا بنا دیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں یہ شکایت کی گئی کہ بعض جگہ سہو کا تب سے غلطیاں رہ گئی ہیں ۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ یہ کوئی غلطی نہیں ہوا کرتی کیونکہ ساتھ ہی ترجمہ ہے اگر کوئی لفظ عربی ہے اور نقطہ وغیرہ کی غلطی ہے تو نیچے ترجمہ اس کی صحت کرتا ہے۔ اور اگر ترجمہ میں کوئی غلطی صحت سے رہ گئی ہے تو پھر اصل عبارت عربی موجود ہے۔ اس سے صحت ہو جاتی ہے۔ (البدر۶ ارنومبر ۱۹۰۲ء)