اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 566

اِعجاز احمدی — Page 153

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۵۳ اعجاز احمدی ضمیمه نزول اسیح رَعَ وَا بُرْجَ بُهْتَانِ تُشَادُ وَتُعُمَرُ فَقَالُوا لَحَاكَ اللَّهُ كَيْفَ تُزَوِّرُ انہوں نے بہتان کا قلعہ دیکھا جو بنایا جاتا تھا۔ پس انہوں نے کہا خدا کی ملامت تجھ پر تو کیسا جھوٹ بول رہا ہے أَقَلُّ زَمَانِ الْبَحْثِ مِقْدَارُ سَاعَةٍ فَلَمُ يَقْبَلِ الْحَمُقَى وَصَحْيِي تَنفَّرُوا کم سے کم بحث کا زمانہ ایک ساعت چاہیئے ۔ پس احمقوں نے قبول نہ کیا اور میرے دوست اس مقدار سے منتظر ہوئے رَضُوا بَعْدَ تَكْرَارٍ وَّ بَحْثٍ بِثُلُثِهَا وَفِي الصَّدْرِ حُزَازٌ وَفِي الْقَلْبِ خَنْجَرُ آخر اس بات پر کسی قدر تکرار اور بحث کے بعد راضی ہو گئے کہ میں نہیں منٹ تک بحث ہو اور سینہ میں سوزش غضب تھی اور دل میں خنجر تھا دَفَاهُمُ عَمَايَاتُ الْأَنَاسِ وَحُمْقُهُمُ رَأوا مُدَّ قَوْم وَالْمُدَى قَدْ شَهَّرُوا قوم کی جہالتوں نے اُن کوختہ کر دیا۔ موضع مذ کو انہوں نے ایسی صورت میں دیکھا جو پھر یاں نکالی ہوئی ہیں فَصَارُوا بِمُدَّ لِلرِّمَاحَ دَريَّةٌ وَيَعْلَمُهَا أَحْمَدُ عَلِيُّ الْمُدَبِّرُ پس میرے دوست مذ میں نیزوں کے نشانے بن گئے اور اس بات کو احمد علی جو میر مجلس تھا، خوب جانتا ہے وَكَانَ تَنَاءُ اللهِ فِي كُلِّ سَاعَةٍ يُأَجْجُ نِيرَانَ الْفَسَادِ وَيُسْعِرُ ﴿٢٣) اور ثناء اللہ ہر ایک گھڑی۔ فساد کی آگ بھڑکا رہا تھا أَرَى مَنْطِقًا مَايَنْبَحُ الْكَلْبُ مِثْلَهُ وَفِي قَلْبِهِ كَانَ الْهَوَى يَتَزَخَّرُ ایسی باتیں کیں کہ ایک کتا اس طرح آواز نہیں نکالے گا۔ اور اُس کے دل میں ہوا و ہوس جوش مار رہی تھی وَإِنَّ لِسَانَ الْمَرْءِ مَالَمْ يَكُن لَّهُ اُصَاةٌ عَلَى عَوْرَاتِهِ هُوَ مُشْعِرُ اور انسان کی زبان جب تک اس کے ساتھ عقل نہ ہو اُس کے پوشیدہ عیبوں پر ایک دلیل ہے يُكَلِّمُ حَتَّى يَعْلَمَ النَّاسُ كُلُّهُمْ جَهُولٌ فَلا يَدْرِى وَلَا يَتَبَصَّرُ ایسا انسان کلام کرتا ہے یہاں تک کہ سب لوگ جان لیتے ہیں۔ کہ یہ جاہل آدمی ہے نہ عقل ہے نہ بصیرت وَلَوْلَا تَنَاءُ اللَّهِ مَازَالَ جَاهِلٌ يَشُكُ وَلَا يَدْرِى مَقَامِي وَيَحْصُرُ اور اگر ثناء اللہ نہ ہوتا تو ایک جاہل میرے بارے میں شک کرتا اور مجھے سوالوں سے تنگ کرتا فَهَذَا عَلَيْنَا مِنَّةٌ مِّنْ أَبِي الْوَفَا اَرَى كُلِّ مَحْجُوبِ ضِيَائِي فَنَشْكُرُ پس یہ مولوی ثناء اللہ کا ہم پر احسان ہے کہ ہر ایک غافل کو ہماری روشنی سے اطلاع دی۔ سو ہم اُس کا شکر کرتے ہیں