اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 140 of 566

اِعجاز احمدی — Page 140

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۴۰ اعجاز احمدی نعیمه نزول المسیح اشاعۃ السنہ میں کیا لکھا ہے اور اب کیا کہتے ہیں۔ صاحب من اقرار کے بعد کوئی قاضی انکار نہیں سن سکتا۔ آپ تو اقرار کر چکے ہیں کہ اہل کشف اور مکالمات کا مقام بلند ہے اُن کے لئے ضروری نہیں ہے کہ خواہ مخواہ محدثین کی تنقید کی اطاعت کریں بلکہ محدثین نے تو مردوں سے روایت کی ہے اور اہل کشف زندہ حستی و قیوم سے سنتے ہیں۔ پس آپ کا اُس شخص کی نسبت کیا گمان ہے جس کا نام حکم رکھا گیا ہے۔ کیا یہ مرتبہ اس کو حاصل نہیں جو آپ دوسروں کے لئے تجویز کرتے ہیں۔ پھر مولوی ثناء اللہ صاحب کہتے ہیں کہ آپ کو مسیح موعود کی پیشگوئی کا خیال کیوں دل میں آیا آخر وہ حدیثوں سے ہی لیا گیا پھر حدیثوں کی اور علامات کیوں قبول نہیں کی جاتیں یہ سادہ لوح یا تو افترا سے ایسا کہتے ہیں اور یا محض حماقت سے اور ہم اس کے جواب میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بیان کرتے ہیں کہ میرے اس دعوی کی حدیث بنیاد نہیں بلکہ قرآن اور وہ وحی ہے جو میرے پر نازل ہوئی۔ ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں۔ اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔ اگر حدیثوں کا دنیا میں وجود بھی نہ ہوتا تب بھی میرے اس دعوے کو کچھ حرج نہ پہنچتا تھا۔ ہاں خدا نے میری وحی میں جابجا قرآن کریم کو پیش کیا ہے چنانچہ تم براہین احمدیہ میں دیکھو گے کہ اس دعوی کے متعلق کوئی حدیث بیان نہیں کی گئی۔ جابجا خدا تعالیٰ نے میری وحی میں قرآن کو پیش کیا ہے۔ میں اب خیال کرتا ہوں کہ جو کچھ مولوی ثناء اللہ صاحب نے مباحثہ موضع مد میں فریب دہی کے طور پر اعتراض پیش کئے تھے سب کا کافی جواب ہو چکا ہے۔ ہاں یاد آیا ایک یہ بھی خیال اُنہوں نے پیش کیا تھا کہ جو کسوف خسوف کی حدیث مہدی کے ظہور کی علامت ہے جو دار قطنی اور کتاب اکمال الدین میں موجود ہے۔ اس میں قمر کا خسوف تیرہ تاریخ سے پہلے کسی ایسی تاریخ میں ہوگا جس میں چاند کو قمر کہہ سکتے ہوں ۔ پس یادر ہے کہ یہ بھی یہودیوں کی مانند تحریف ہے۔ خدا نے قمر کے خسوف کے لئے اپنی سنت کے موافق تین راتیں مقرر کر رکھی