اِعجاز احمدی — Page 139
روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۳۹ اعجاز احمدی نعیمه نزول المسیح جب قرآن اور کشف کا نظا ہر ہو گیا بلکہ بعض حدیثوں نے بھی اس کی تائید کی تو پھر تو اس کے قول کو قبول کرنا چاہیے ورنہ مسیح موعود کا نام حکم رکھنا کیا فائدہ۔ بعض چالاک مولوی کہتے ہیں کہ اگر کوئی آسمان سے بھی اُترے اور یہ کہے کہ فلاں فلاں حدیث جو تم مانتے ہو صحیح نہیں ہے تو ہم کبھی قبول نہ کریں گے اور اُس کے منہ پر طمانچہ ماریں گے۔ اس کا جواب یہی ہے کہ ہاں حضرات آپ کے وجود پر یہی اُمید ہے ۔ مگر ہم بادب عرض کرتے ہیں کہ پھر وہ حکم کا لفظ جو مسیح موعود کی نسبت صحیح بخاری میں آیا ہے اُس کے ذرہ معنی تو کریں ہم تو اب تک یہی سمجھتے تھے کہ حکم اُس کو کہتے ہیں کہ اختلاف رفع کرنے کے لئے اُس کا حکم قبول کیا جائے اور اُس کا فیصلہ گو وہ ہزار حدیث کو بھی موضوع قرار دے ناطق سمجھا جائے جو شخص خدا کی طرف سے آئے گا وہ آپ کے طمانچے کھانے کو تو نہیں آئے گا خدا تعالیٰ اُس کے لئے خود راہ نکال دے گا۔ جس شخص کو خدا نے کشف اور الہام عطا کیا اور بڑے بڑے نشان اُس کے ہاتھ پر ظاہر فرمائے اور قرآن کے مطابق ایک راہ اُس کو دکھلا دی تو پھر وہ بعض ظنی حدیثوں کے لئے اس روشن ۳۰ اور یقینی راہ کو کیوں چھوڑے گا اور کیا اُس پر واجب نہیں ہے کہ جو کچھ خدا نے اُس کو دیا ہے اُس پر عمل کرے اور اگر خدا کی پاک وحی سے حدیثوں کا کوئی مضمون مخالف پاوے اور اپنی وحی کو قرآن سے مطابق پاوے اور بعض حدیثوں کو بھی اُس کی موید دیکھے تو ایسی حدیثوں کو چھوڑ دے اور اُن حدیثوں کو قبول کرے جو قرآن کے مطابق ہیں اور اُس کی وحی کے مخالف نہیں۔ مجھے حیرت ہے کہ ایڈوکیٹ صاحب کس قسم کی طبیعت رکھتے ہیں کہ یہ تو آپ مانتے ہیں کہ پہلے اولیاء ایسے گزرے ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضوری سے صحیح حدیث کو غلط ٹھہراتے اور غلط کو سیح ٹھہراتے تھے مگر آپ کو شرم آتی ہے کہ یہ مرتبہ مسیح موعود کو بھی جو حکم ہے عنایت کریں اور تعجب کہ آپ کے پیرو کس قسم کے ہیں کہ اُن کو یہ نہیں پوچھتے کہ دوسرے اولیاء کے تو یہ اختیارات ہیں پھر حکم کو ان اختلافات کی وجہ سے کیوں کا فرٹھہراتے ہو اور کیوں خدا سے نہیں ڈرتے ۔ میں تعجب کرتا ہوں کہ پیرانہ سالی کی وجہ سے مولوی محمد حسین صاحب کے حافظہ پر کیسے پتھر پڑ گئے یاد نہ رہا کہ