اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 138 of 566

اِعجاز احمدی — Page 138

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۳۸ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح الْحَقِّ شَيْئًا ل پھر اگر حکم کا فیصلہ بھی نہ مانا جائے تو پھر وہ حکم کس چیز کا۔ ماسوا اس کے اگر نہایت ہی نرمی کریں تو ان حدیثوں کو ظن کا مرتبہ دے سکتے ہیں اور یہی محدثین کا مذہب ہے اور ظن وہ ہے جس کے ساتھ کذب کا احتمال لگا ہوا ہے۔ پھر ایمان کی بنیاد محض ظن پر رکھنا اور خدا کے قطعی یقینی کلام کو پس پشت ڈال دینا کون سی عقلمندی اور ایمانداری ہے ہم یہ نہیں کہتے کہ تمام حدیثوں کو ردی کی طرح پھینک دو بلکہ ہم کہتے ہیں کہ اُن میں سے وہ قبول کرو جو قرآن کے منافی اور معارض نہ ہوں تا ہلاک نہ ہو جاؤ۔ کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں کہ عیسی کی عمر دو ہزار برس یا تین ہزار برس ہوگی بلکہ ایک سو میں برس کی عمر لکھی ہے اب بتلاؤ کیا ایک سوئیس برس اب تک ختم ہوئے یا نہیں ۔ کسی حدیث مرفوع متصل میں یہ کہاں لکھا ہے کہ ۲۹ حضرت عیسی چھت پھاڑ کر آسمان پر چڑھ گئے تھے اور لعنتی بنانے کے لئے ان کا کوئی حواری یا کوئی دشمن مقرر کیا گیا تھا اگر حواری تھا تو بوجہ صلیب توریت کی رو سے ایک ایماندار کو ملعون بنایا گیا کیا یہ فعل شنیع خدا کی طرف منسوب ہو سکتا ہے ۔ اور اگر کوئی اور یہودی تھا تو وہ صلیب کے وقت چپ کیوں رہا اور کیا اُس کی بیوی اور دوسرے رشتہ دار مر گئے تھے اور کیا وہ گنگا تھا جو اپنی بریت کے لئے تسلی نہ کر سکا۔ ماسوا اس کے مولوی محمد حسین صاحب جو موحدین کے ایڈوکیٹ کہلاتے ہیں اپنے اشاعۃ السنہ میں جس میں انہوں نے براہین احمدیہ کا ریویو لکھا ہے تحریر فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کو بذریعہ کشف کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حضوری ہوتی ہے وہ محدثین کی تنقید کے پابند نہیں ہو سکتے بعض حدیثیں جو محدثین کے نزدیک صحیح ہیں وہ اپنے کشف کے رو سے اُن کو موضوع قرار دیتے ہیں اور بعض حدیثیں جو محدثین کے نزدیک موضوع ہیں وہ اُن کی نسبت اپنے کشف کی شہادت سے صحت کا یقین رکھتے ہیں۔ پس جبکہ یہ بات ہے تو پھر وہ جو مسیح موعود اور حکم ہونے کا دعوی کرتا ہے کیوں مولوی صاحب اس پر اس قدر ناراض ہیں کہ اُس کا کشف دوسروں کے کشف کے برابر بھی نہیں مانتے حالانکہ وہ قرآن کے مطابق ہے۔ ا يونس : ۳۷