اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 137 of 566

اِعجاز احمدی — Page 137

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۳۷ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح دیکھو ہم انصاف سے کہتے ہیں کہ متذکرہ بالا کتابوں میں جو حدیثیں ہیں ان کی دو ٹانگیں تھیں ایک ٹانگ مہدی والی سو وہ مولوی محمد حسین صاحب نے توڑ دی۔ اب دوسری ٹانگ مسیح کے آسمان سے اترنے کی ہم توڑ دیتے ہیں۔ کیونکہ دو جزوں میں سے جب ایک جز باطل ہو جائے تو وہ اس بات کی مستلزم ہوئی کہ دوسرا بجو بھی باطل ہے۔ عیسی کے لئے تو خلافت مسلم نہیں کیونکہ وہ قریش میں سے نہیں ۔ اور مہدی کا تو خود مولوی صاحب نے خاتمہ کر دیا۔ تو پھر عیسی کو دوبارہ زمین پر آنے کی کیوں تکلیف دی جائے۔ اُن کو دو ہزار برس سے بیکار رہنے کی عادت ہے اور طبیعت آرام طلب ۔ اب خواہ مخواہ پھر تکلیف دینا نا مناسب ہے۔ علاوہ اس کے ان حدیثوں کے درمیان اس قدر تناقض ہے کہ اگر ایک حدیث کے بر خلاف دوسری حدیث تلاش کرو تو فی الفور مل جائے گی ۔ پس اس سے قرآن شریف کے بینات کو ۲۸) چھوڑنا اور ایسی متناقض حدیثوں کے لئے ایمان ضائع کرنا کسی اللہ کا کام ہے نہ عقلمند کا۔ پھر یہ بھی سوچو کہ اگر قرآن کے مخالف ہو کر حدیثیں کچھ چیز ہیں تو نماز کی حدیثوں کو تو سب سے زیادہ وقعت ہونی چاہیے تھی اور تو اتر کے رنگ میں وہ ہونی چاہئے تھیں مگر وہ بھی آپ لوگوں کے تنازع اور تفرقہ سے خالی نہیں ہیں۔ یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ ہاتھ کہاں باندھنے چاہئیں اور رفع یدین اور عدم رفع اور فاتحہ خلف امام اور آمین بالجہر وغیرہ کے جھگڑے بھی اب تک ختم ہونے میں نہیں آئے اور بعض بعض کی حدیثوں کو رڈ کر رہے ہیں۔ اگر ایک وہابی حنفیوں کی مسجد میں جا کر رفع یدین کرے اور امام کے پیچھے فاتحہ پڑھے اور سینہ پر ہاتھ باندھے اور آمین بالجہر کرے تو گو اس عمل کی تائید میں چار سو سی حدیث سنادے تب بھی وہ ضرور مار کھا کر آئے گا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ابتدا سے ہی حدیثوں کو بہت عظمت نہیں دی گئی اور امام اعظم جو امام بخاری سے پہلے گزر چکے ہیں بخاری کی حدیثوں کی کچھ پروا نہیں کرتے اور اُن کا زمانہ اقرب تھا چاہیے تھا کہ وہ حدیثیں اُن کو پہنچتیں اس لئے مناسب ہے کہ حدیث کے لئے قرآن کو نہ چھوڑا جائے۔ ورنہ ایمان ہاتھ سے جائے گا۔ اِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِى مِنَ