اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 129 of 566

اِعجاز احمدی — Page 129

روحانی خزائن جلد ۱۹ ۱۲۹ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح اُس کی روح اُٹھا لوں گا۔ یہ الٹا جواب جو دیا گیا یہ تو امر متنازعہ فیہ سے کچھ تعلق نہیں رکھتا ۔ اسی طرح آنحضرت صلعم کی نسبت آپ لوگوں کا یہ گمان ہے کہ اُنہوں نے جھوٹ بولا کہ یہ کہا کہ میں عیسی کو مردوں کی روحوں میں دیکھ آیا ہوں جو اس جہان سے باہر ہو گئے ہیں ۔ ایک جسم دار شخص روحوں میں کیونکر بیٹھ گیا اور بغیر قبض روح دوسرے جہان میں کیو نکر پہنچ گیا۔ یہ عجیب ایمان ہے کہ خدا نے تو اپنے قول سے گواہی دی کہ عیسی مر گیا وہ گواہی قبول نہیں کی۔ اور پھر رسول نے اپنے فعل سے یعنی رویت سے گواہی دی کہ میں مردہ روحوں میں اُس کو دیکھ آیا ہوں ، وہ گواہی بھی رد کی جاتی ہے اور پھر اسلام کا دعویٰ اور اہل حدیث ہونے کی شیخی ۔ عیسی سے تو معراج کی رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کچھ باتیں بھی نہ ہوئیں، موسیٰ سے باتیں ہوئیں۔ اور قرآن شریف میں ہے کہ موسیٰ کی ملاقات میں شک نہ کر ۔ پس یہ کیسا جھوٹ ہے جو خدا اور رسول دونوں پر باندھا ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ میسی کی نسبت ہے اِنَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ ے جن لوگوں کی یہ قرآن دانی ہے ان سے ڈرنا چاہیے کہ نیم مثلاً خطرہ ایمان ۔ اے بھلے مانسو ۔ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (۲) عِلْمٌ لِلسَّاعَةِ نہیں ہیں جو فرماتے ہیں کہ بُعِثْتُ اَنَا وَ السَّاعَةُ كَهَاتَيْنِ اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ یہ کیسی بدبودار نادانی ہے جو اس جگہ لفظ سَاعَة سے قیامت سمجھتے ہیں ۔ اب مجھ سے سمجھو کہ ساعۃ سے مراد اس جگہ وہ عذاب ہے جو حضرت عیسی کے بعد طیطوس رومی کے ہاتھ سے یہودیوں پر نازل ہوا تھا اور خود خدا تعالی نے قرآن شریف میں سورۃ بنی اسرائیل میں اس ساعت کی خبر دی ہے۔ اسی آیت کی تشریح اس آیت میں ہے کہ مَثَلًا لِّبَنِي إِسْرَاءِيْلَ " یعنی عینی کے وقت سخت عذاب سے قیامت کا یہود حضرت مسیح کی غشی کی حالت سے بے خبر تھے یہی شبہ تھا جو اُن پر ڈالا گیا۔ پس چونکہ وہ خیال کرتے تھے کہ عیسی صلیب پر مر گیا اس لئے وہ اس کی رفع روحانی کے قائل نہ تھے اور اب تک قائل نہیں۔ اُن کے مقابل پر امرتنقیح طلب صرف رفع روحانی ہے کیونکہ جسمانی رفع اُن کے نزدیک مدار نجات نہیں ۔ منہ الزخرف :٦٢ القمر :٢ الزخرف : ٦٠