اِعجاز احمدی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 566

اِعجاز احمدی — Page 130

روحانی خزائن جلد ۱۹ اعجاز احمدی ضمیمه نزول المسیح نمونہ یہودیوں کو دیا گیا اور اُن کے لئے وہ ساعت ہوگئی۔ قرآنی محاورہ کی رو سے مساعۃ عذاب ہی کو کہتے ہیں۔ سو خبر دی گئی تھی کہ یہ ساعة حضرت عیسی کے انکار سے یہودیوں پر نازل ہوگی۔ پس وہ نشان ظہور میں آگیا اور وہ مساعۃ یہودیوں پر نازل ہوگئی اور نیز اُس زمانہ میں طاعون بھی ان پر سخت پڑی اور در حقیقت اُن کے لئے وہ واقعہ قیامت تھا جس کے وقت لاکھوں یہودی نیست و نابود ہو گئے اور ہزار ہا طاعون سے مر گئے اور باقی ماندہ بہت ذلت کے ساتھ متفرق ہو گئے۔ قیامت کبری تو تمام لوگوں کے لئے قیامت ہوگی مگر یہ خاص یہودیوں کے لئے قیامت تھی ، اس پر ایک اور قرینہ قرآن شریف میں یہ ہے کہ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ اننَّهُ لَعِلْمُ لِلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا یعنی اے یہود یو ! عیسی کے ساتھ تمہیں پتہ لگ جائے گا کہ قیامت کیا چیز ہے۔ اُس کے مثل تمہیں دی جائے گی یعنی مَثَلًا لِبَنِي إِسْرَاعِيلَ وہ قیامت مہارے پر آئے گی اس میں شک نہ کرو۔ صاف ظاہر ہے کہ قیامت حقیقی جواب تک نہیں آئی اُس کی نسبت غیر موزوں تھا کہ خدا کہتا کہ اس قیامت میں شک نہ کرو اور تم اُس کو دیکھو گے۔ اُس زمانہ کے یہودی تو سب مر گئے اور آنے والی قیامت اُنہوں نے نہیں دیکھی۔ کیا خدا نے جھوٹ بولا ۔ ہاں طیطوس رومی والی قیامت دیکھی ۔ سو قیامت سے مراد وہی قیامت ہے جو حضرت مسیح کے زمانہ میں طیطوس رومی کے ہاتھ سے یہودیوں کو دیکھنی پڑی اور پھر طاعون کے ذریعہ سے اُس کو دیکھ لیا۔ یہ خدا کی کتابوں میں پرانا وعدہ (۲۲) عذاب کا چلا آتا تھا جس کا بائبل میں جا بجان کر پایا جاتا ہے۔ قرآن شریف میں اس کے لئے خاص آیت نازل ہوئی۔ یہی وعدہ قرآن شریف اور پہلی کتابوں میں موجود ہے اور اسی سے یہودیوں کو تنبیہ ہوئی ورنہ دور کی قیامت سے کون ڈرتا ہے۔ کیا اس وقت کے مولوی اُس قیامت سے ڈرتے ہیں ہر گز نہیں اور جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے۔ یہ لفظ مساعۃ کا کچھ قیامت سے خاص نہیں اور نہ قرآن نے اس کو قیامت سے خاص رکھا ہے۔ افسوس کہ نیم ملا جن کی عاقبت خراب ہے اپنی جہالت سے ایسے ایسے معنے کر لیتے ہیں جن سے اصل مطلب فوت ہو جاتا ہے۔ آخری قیامت سے یہودیوں کو کیا خوف تھا مگر قریب کے عذاب کی پیشگوئی بے شک اُن کے دلوں پر اثر ڈالتی تھی ۔ الزخرف : ٦٢ الزخرف : ٦٠