حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 242 of 494

حجة اللہ — Page 242

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۲۴۲ حجة الله (۹۴) نشأت أحِبُّ الصدق طفلاً ويافِعًا وكهلاً ولو مُزّقت كلَّ الـمـمـزَّقِ میں بچپن سے جوانی اور کہولت کے زمانہ تک سچائی سے دوستی رکھتا ہوں اگر چہ ٹکڑے ٹکڑے کیا جاؤں شربنا زُلالاً لا يُكدر صفوه وذقنا شرابا محييا من تذوق ہم نے وہ پانی پیا ہے جس کی صفائی مدد نہیں ہوتی اور ہم نے وہ شربت پیا ہے جو وقتا فوقتا پینے سے زندہ کر دیتا ہے عجبت لعقلك يا أسير ضلالةٍ تركت نميرَ الماء مِن حُبِّ غَلْفَقِ تیری عقل پر اے گرفتار ضلالت تعجب ہے تو نے اچھا پانی کائی کی خواہش سے ترک کر دیا أَتُبصر في عَيْنَى مخالفك القَذى وعينك مِن جِذْلٍ عتا تتشقَّقِ کیا تو اپنے مخالف کی آنکھ میں ایک تنکا دیکھتا ہے اور تیری آنکھ ایک موٹی جڑ کے اندر جانے سے پھٹ رہی ہے تموت بوادٍ ذى حِقافٍ عَقَنُقَلِ وتكره روضًا مِن عُذَيْقٍ مُلَبَّقِ تو ایک ریتلے اور تہ بتہ ریت کے جنگل میں مرتا ہے اور کھجوروں کے باغ سے پر ہیز کرتا تجلّى الهدى والشمسُ نضَّتُ نقابها وأنت كخفاش الدُّجى تتأبق ظاہر ہو گئی ہدایت اور سورج نے برقع اتار ڈالا اور تو خفاش کی طرح چھپتا ہے وسميتنى أشقى الرّجال تعصّبًا فتعلم إن متنا غدًا أيُّنا الشقى اور میرا نام تو نے اشقی الرجال رکھا ہے پس مرن کے بعد تجھے معلوم ہوگا کہ ہم دونوں میں سے کون شفقی ہے ولا يستوى المرء ان هذا محقق وآخر يتبع كلَّ قولِ مُلفَّقِ اور ایسے دو آدمی برابر نہیں ہو سکتے کہ ایک ان میں سے محقق ہے اور دوسرا ہر ایک رطب و یابس کی پیروی کرتا ہے أرى رأسك المنحوس قَفُرًا من النُّهى وقلبًا كموماةٍ ونفسًا كَسَلْمَقِ میں تیرے منحوس سرکو عقل سے خالی دیکھتا ہوں اور تیرے دل کو بے آب ودانہ جنگل کی طرح اور تیرے نفس کو نجر زمین کی طرح متى ضلَّ عقلُ المرء ضلَّت حواسُهُ فلا يُؤنس الوَحْلَ المُزِلُّ ويزمقِ جب انسان کی عقل گمراہ ہو جاتی ہے تو ساتھ ہی حواس بھی گمراہ ہو جاتے ہیں پس وہ پھسلانے والے کیچڑ کو نہیں دیکھتا اور پھسل جاتا ہے کذلک متم من عنادٍ ونقمةٍ فأنى لكم تأييد رَبِّ مُوفِّق اسی طرح تم عناد اور کینہ سے مر گئے پس خدا کی تائید تمہیں کہاں ہے أفي الكفر أمثال جفاءً وغلظة لكم أيها الرامون رمى التخَلُّقِ کیا کافروں میں ظلم اور درشتی میں تمہارا کوئی نمونہ پایا جاتا ہے اے وے لو گو جو محض دروغگوئی سے گالیاں دے رہے ہو