حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 243 of 494

حجة اللہ — Page 243

۲۴۳ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله أهذا هو التقوى الذى فى جموعكم أتلك الأمور ومثلها شأن متقى ۹۵ کیا یہی تمہاری جماعتوں کا تقویٰ ہے کیا یہ امور اور ان کی مانند متقی کی شان کے لائق ہیں وقلتُ لكم توبوا وكُفُّوا لسَانَكُم فما كان فيـكـم مـن يتوب ويتقى اور میں نے تمہیں کہا کہ تو بہ کرو اور زبان کو بند رکھو پس تم میں کوئی بھی ایسا نہ تھا کہ تو بہ اور تقویٰ اختیار کرتا ولِلهِ آيَاتٌ لتأييد اور خدا نے ہمارے امر کی تائید میں کئی نشان ظاہر کئے ہیں اور بعض کو ہم نے محققوں کے لئے لکھ على قلب أهل الله نزلت سكينةٌ وقلبك یا مفتونُ يَعوِی وینهقِ اہل اللہ کے دل پر سکینت نازل ہو گئی اور تیرا دل اسے فتنہ میں پڑے ہوئے گدھے کی طرح آواز کر رہا ہے أيا لاعني إن السعادة في التقـى | فخف قهر ربِّ حـافـظ الـحـق وَاتَّقِ اے میرے لعنت کرنے والے سعادت نیک بختی میں ہے پس خود نگہدارندۂ حق سے ڈر اور تقویٰ اختیار کر إذا كُتِبَ أن الموت لا بد تُدرك فموت الفتى خير له مِن تَخلُّقِ جب لکھا گیا کہ موت ضرور ہے پس مرد کا مرنا جھوٹ بولنے ، بہتر ہے ولا يفلح الإنسان إلَّا بصدقه وكل كَذُوبِ لا محالةَ يُوبَقِ اور انسان محض صدق سے نجات پاتا ہے اور ہر ایک دروغگو آخر ہلاک ہوتا ہے وما انفتحت شدقاك بالسب والهجا وتكذيب أهل الحق إِلَّا لِتُمُلَقِ اور تو نے گالیوں کے ساتھ اس لئے منہ کھولا ہے اور اس لئے تکذیب کرتا ہے کہ تا محو کیا جائے وإنّ سِقام الجسم ملتمسُ الشفا وليس دواء في الدكاكين للشقى جسم کی بیماری قابل شفا مگر شقاوت کی کسی دوکان میں دوا نہیں وَوَاللهِ لو لا خربتي لم تكد تری نهیگا تَحُطُّ ضلالةً حين تَسُمُقِ ہوتا تو تو کوئی ایسا بہادر نہ پاتا کہ گمراہی کو بلند ہونے سے روکتا أمرنا وإنا كتبنا بعضها للمُحقق اور اور : ہے ނ بخدا اگر میرا حربه وإنى كتبتُ قصيدتي هذه لكم فمِن حَيّكم مَن كان حيًّا لِيَنُمُق ہے پس تمہارے گروہ میں سے جو زندہ ہے وہ بھی لکھے نے یہ قصیدہ تمہارے مقابلہ کیلئے لکھا ۔ كَبُكُم أراكم أو كأحْمِرَةِ الفلا غدَا طَلُقُ السُنِكم كزوج تُطلق میں گونگوں کی طرح تمہیں دیکھتا ہوں یا جنگل کے گدھوں کی طرح اور تمہاری زبان کی روانگی ایسی کھوئی گئی بیا کہ عورت کوطلاق دی جاتی ہے