حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 176 of 494

حجة اللہ — Page 176

حجة الله روحانی خزائن جلد ۱۲ خسر في الدنيا والدين يسبّني ويشتمنى بطغواه، ولا ينظر إلى مآل ساب من "الآرية" جو دین اور دنیا میں نقصان اٹھانیوالا ہے اپنے حد سے گزر جائیکے سبب سے مجھے گالیاں دیتا ہے اور نہیں دیکھتا کہ آریہ گالیاں دینے والے کا ومأواه، وإنّ السعيد من اتعظ بسواه ۔ وأنى له الرشد والهدى، وإنه لا يعلم ما التقى، ولا کیا انجام ہوا۔ اور نیک بخت وہ ہوتا ہے جو دوسرے کے حال سے نصیحت پکڑتا ہے اور اس کو رشد اور ہدایت کہاں نصیب ہو وہ تو نہیں جانتا الأدب المُنتقَى، وإنه سلك سُبل الهالكين لا يُبالى الحشر وأهواله، ولا قَهُرَ الله ونكاله ، کہ پر ہیز گاری کس کو کہتے ہیں اور نہ ادب برگزیدہ کی اس کو خبر ہے اور وہ مرنیوالوں کی راہ چلا ہے قیامت اور اس کے خوفوں کی کچھ پروانہیں رکھتا۔ وكل ما ب إلَّا ككيد، أو أحبولة صيد ، أراد أن يفتن قلوب الجماعة، بافتنانه في اور نہ خدا کے قہر اور وبال سے ڈرتا ہے۔ اور جو کچھ اس نے لکھا وہ ایک مکر ہے۔ یا دام صید ہے۔ اس نے البراعة، وأرعف كفه البَراعَ، ليُرِى السفهاء البَعاعَ، ولكنه هتك أستاره، وأرى في كل قدم ارادہ کیا کہ اپنی جماعت کے دلوں کو تفن کلام کے ساتھ فریفتہ کرے۔ اور اس کے ہاتھ نے قلم کو رواں کیا تا نا دانوں کو اپنی متاع دکھلائے مگر اس نے اپنے عثاره، وأفضى في حديث يُفضحه، ودخل نارًا تلفحه، فمثله كمثل رجل شهر خزيه بدقه، أو پردے پھاڑ دیئے اور ہر ایک قدم میں اپنی لغزش دکھلائی اور اس بات کو شروع کیا جو اس کو رسوا کرے گی اور اس آگ میں داخل ہوا جو اس کو جلا دے گی پس اس جدع مارن أنفه بكفّه، فلحق بالملومين المخذولين ومع ذلك سبنى ليجير فُقدان فضل کی اس شخص کی مثال ہے جس نے اپنی رسوائی کو اپنے دف کے ساتھ مشہور کیا یا اپنی ناکو اپنے ہاتھ کیساتھ کاٹا۔ پس سلامت اٹھانیوالے اور گمنام لوگوں میں بیانه بفضول لسانه، وأما نحن فلا نتأسف على ما قلَى وقال، ولا نطيل فيه المقال، فإنه من جاملا۔ اور باوجود اس کے مجھ کوگالیاں دیں اپنی بیہودہ گوئی سے اپنی ژولیدہ بیانی کو پناہ دیوے۔ مگر ہم اس کی دشمنی اور قول پر کچھ تاسف نہیں کرتے اور نہ اس میں قوم تعوّدوا السب والانتصاب للإزراء ،ات، وحسبوه لأنفسهم من أعظم الكمالات کچھ زیادہ کہنا چاہتے ہیں کیونکہ وہ ایک ایسی قوم میں سے ہے جن کو گالیاں دینے اور عیب گیری کی عادت ہے۔ اور اس عادت کو انہوں نے اپنا کمال سمجھا ہوا ہے۔ فنستكفى بالله الافتنان بمفترياته، ونعوذ به من نياته وجهلاته، وما نعطف إلى السب پس ہم ان کے فتنہ میں مبتلا ہونے سے خدا کو اپنے لئے کافی جانتے ہیں اور اس کی نیتوں سے خدا کی پناہ ڈھونڈتے ہیں اور ہم گالی کی طرف رجوع نہیں کرتے