حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 175 of 494

حجة اللہ — Page 175

۱۷۵ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله تلك الرسائل الرشيقة، والنكات الدقيقة العميقة، بل استمليتها من رجال هذه الصناعة، ٢٧ رسالوں کا موجد اور نہ ان نکات عمیقہ کا نکالنے والا بلکہ تو نے ان کتابوں کو اس صناعت کے مردوں سے لکھوایا ہے۔ پھر تو ثم عزوتها إلى نفسك لتحمد بالفضل والبراعة، وإنّا نعرف مبلغ علمك نے ان کو اپنے نفس کی طرف نسبت دے دی ہے تا بزرگی اور کمال عقلمندی کے ساتھ تعریف کیا جائے اور ہم تیرا انداز وعلم وما كنا غافلين۔ جانتے ہیں اور ہم غافل نہیں۔ وشـابـهـه فـي قـولـه شـيـخ طويل اللسان كثير الهذيان، وزعم أنه من فضلاء الزمان، وأنه اور اک شیخ لمبی زبان والا بہت ہذیان والا عبدالحق سے مشابہ ہے۔ اس نے گمان کیا ہے کہ وہ زمانہ کے فاضلوں میں سے ہے اور یہ شیخ نجفی ہے نجفي ومن المتشيعين ۔ وإنه أرسـل إلـى مكتوبه في العربية، ليخدع الناس بالكلم الملفقة، اور شیعہ ہے۔ اور اس نے عربی میں میری طرف ایک خط لکھاتا پنے پر تکلف جوڑے ہوئے فقروں کے ساتھ لوگوں کو دھوکا دے اور تا کہ عوام الناس کے دل اس کی ولتعظمه قلوب العامة وليستميل إليه زُمر الجاهلين ۔ وما كان قوله إلا فضلة قول الفضلاء ، | بزرگی کریں اور تا کہ جاہلوں کو اپنی طرف میل دے۔ اور اس کا قول صرف فاضلوں کے قول کا ایک فضلہ تھا۔ اور ان کے کلمہ وعذرة كلمتهم العذراء ۔فالعجب من جهله، إنه ما خاف إزراء القادحين، ووقف موقف | باکرہ کی ایک نجاست تھی ۔ پس اس کی جہالت سے تعجب ہے کہ وہ عیب گیروں کی عیب گیری سے نہیں ڈرا۔ اور ندامت کی مـنـدمة، وما أرى الوجه كالمتندمين بل إنه مع ذالك بلّغ السب والشتم إلى الكمال، وما | جگہ پر کھڑا ہوا اور شرمندوں کی طرح منہ نہ دکھلایا بلکہ اس نے باوجود اس کے سب اور شتم کو کمال تک پہنچا دیا اور کسی گالی کو غادر سبا إلا كتبـه كـالـسـفـيـه الـرزال، ولا يعلم ما الإيمان وما شِيَم المؤمنين ۔ ومثل قلبه نہ چھوڑا جس کو کمینہ زیلوں کی طرح نہ لکھ اور نہیں جانتا کہ ایمان کیا ہے اور مومنوں کی خصلتیں کیا ہیں اور اسکے منقبض دل کی المنقبض كمثل يـوم جـوه مُزْمَهِرٌ ودَجُنُه مُكفهر ، عارى الجلدة، بادى الجُردة، شقى مثال ایسی ہے جیسا کہ وہ دن جو سخت سرد ہو اور اس کا بادل تہ بہ تہ جما ہوا ہو۔ برہنہ پوست اور آشکار بر تنگی ایک بد بخت ہے