حجة اللہ — Page 174
۱۷۴ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله ٢٢ يتركون أحكم الحاكمين ۔ فـكـان الـلـه شـرق وهم غربوا، ودعا لجمع الثمار وهم احکم الحاکمین کو چھوڑے جاتے ہیں۔ پس گویا خدا مشرق کی طرف گیا اور یہ لوگ مغرب کی طرف ۔ اور اس نے پھلوں کے جمع کرنے کے لئے کہا احتطبوا، وأمر أن يؤتونى عَذَّبًا فعذَّبوا، وما اجتنبوا الأذى بل كادوا أن يُجنّبوا، فردّ الله | اور انہوں نے خشک لکڑیاں جمع کیں اور حکم کیا کہ مجھے مٹھا پانی دیں اور انہوں نے عذاب کیا اور دکھ دینے سے پر ہیز نہ کی بلکہ نزدیک ہوئے کہ نياتهم عليهم فانقلبوا مخذولين۔ پہلی توڑ ڈالیں۔ پس خدا نے ان کی نیتیں ان پر ڈال دیں۔ سو انجام ان کا نا مرادی تھی۔ ومنهم رجـل مـن الغزني يسمونه عبد الحق، وإنه سبّ وشتم و وثب سفاهةً كالبق ۔ وإنه اور ان میں سے ایک غزنوی شخص ہے جس کو عبدالحق کہتے ہیں اور اس نے گالیاں دیں اور پیشہ کی طرح اچھلا اور وہ ایک چوہا ہے فويسقة يُذعر الأسود في جُحره بالغق ۔ وإن الخنّاس زقه فبالغ في الزق ۔ وإنه كذب آية شیروں کو اپنے سوراخ میں آواز سے ڈراتا ہے اور شیطان نے اس کو غذادی پس پوری غذا دی اور اس نے کسوف خسوف کے نشان کی الكسوف كما كُذَّبَ مِن قبل آيةُ القمر المنشق ۔ وَإنّ الشيطان لقّ عينه فذهب ببصره باللق ۔ تکذیب کی جیسا کہ کفار نے شق القمر کی تکفیر کی اور شیطان نے اس کی آنکھ پر ماری پس آنکھ نکال دی اور وہ مرغی کی طرح آواز کر رہا ہے وَمَا نَقَّ إِلَّا كدجاجة فنذبحه بمُدَى الحق، ونُريه جزاء النق، فما ينجو منا بالهرب والهق، ولا پس ہم سچائی کی چھری سے اس کو ذبح کر دیں گے اور اس کی آواز کی اس کو جزا چکھائیں گے۔ پس ہم سے بھاگنے کے ساتھ نجات نہیں پائے ينفعه كيد الكائدين ۔ وإنّه أرسل إلى كتابه المملوّ من السب والتكفير، وخدع الناس بأنواع گا اور کوئی مکر اس کو فائدہ نہیں دے گا اور اس نے اپنی وہ کتاب جو گالیوں اور تکفیر سے پڑ تھی میری طرف بھیجی اور طرح طرح کے جھوٹوں سے الدقارير، وذكر فيه كتابي وهذى، وقال أهذا من هذا؟ كلا بل إنه من النُوكَى، ولا يكاد يُبين ۔ لوگوں کو دھوکا دیا۔ اور میری کتاب کا ذکر کیا اور بکواس کی اور کہا کیا ایسی کتاب اس شخص کی تالیف ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ یہ تو جاہل ہے اور بلیغ وخاطبني وادّعى كعارف الحقيقة، وقال إنك لست مؤلّف هذه الكتب الأنيقة، ولا أبا عُذر بات کہنے پر قادر نہیں اور مجھے مخاطب کر کے ایک حقیقت شناس کی طرح دعوی کیا اور کہا کہ تو ا عمدہ کتابوں کا موقف نہیں ہے اور نہ ان لطیف