حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 173 of 494

حجة اللہ — Page 173

۱۷۳ روحانی خزائن جلد ۱۲ حجة الله أو أُعطوا من العلوم النخب، وما جاء ونى بالدبيب ولا بالخبيب، بل تكلموا كالنساء متسترين ۔ (۲۵) یا علوم برگزیدہ دیئے گئے ہیں اور میرے پاس نہ نرم رفتار میں آئے اور نہ تیز رفتار میں بلکہ عورتوں کی طرح چھپی چھپی باتیں کیں اور صحت نیت وما أنكروا بصحة النية، بل كبخيل خاطبِ الدنيا الدنية ۔ ونبههم الله فما تنبهوا ، وأيقظتهم سے انکار نہیں کیا بلکہ اس بخیل کی طرح جو دنیا کا چاہنے والا ہو اور ان کو خدا تعالیٰ نے خبر دار کیا پس خبر دار نہیں ہوئے اور نشانوں نے ان کو جگایا الآيات فما استيقظوا ألم يروا آية كبرى، إذ أهراق قاتل دمًا وأولغ فيه المُدَى؟ وكان المقتول | پس وہ نہیں جاگے کیا انہوں نے ایک بڑا نشان نہ دیکھا جب قاتل نے ایک خونریزی کی اور اس کے اندر اپنی چھری کو داخل کیا اور مقتول ایک آریہ "آرية "خبيثا ومن العدا ۔ فأبكى الله من سخر من الدين وسبّ وهجا، وألقاه في عذاب لا خبیث اور دشمنوں میں سے تھا۔ پس خدا نے ایک ایسے شخص کو لایا جو دین اسلام سے ٹھٹھا کرتا اور گالیاں نکالتا تھا۔ اور اس کو ایسے عذاب میں ڈال دیا۔ جس يتقضى ونار لا يموت فيها ولا يحيى، وضيّع كل ما صنع وهدّم كل ما علا، إن في ذلك لآيات | کا کبھی خاتمہ نہیں اور ایسی آگ میں جھونک دیا جس میں نہ مریگا اور نہ زندہ رہے گا ورا سکے تمام کاروبار کوضائع کیا اور اسکی ہر ایک بلند کردہ کومسمار کیا۔ اس الأولى النهى ۔ وكان نبأ "تم" "يحكى الشها، بما خفى من أعين العُمى وما تجلّى، فألقت هذه | میں ملندوں کیلئے نشان ہیں اور آتھم کی نسبت جو پیشگوئی کی گئی تھی وہ خفا میں ستارہ سبا کے مشابہ تھی اور اندھوں کی نظر سے بہت پوشیدہ تھی اور ظاہر نہ تھی۔ الأياة عليه رداءها، فأشرقا كشمس الضحى، وأضاء اعقول العاقلين وجذبا إلى الحق من أتى ۔ پس اس روشنی نے اس پر چادر ڈال دی ۔ پس دونوں دوپہر کے آفتاب کی طرح چمک اٹھیں اور عقلمندوں کی عقلوں کو روشن کیا اور آنے والے کوحق کی طرف کھینچ وهذه آية عذراء ، اء ، وشمس بيضاء ، فليهتدِ من شاء ، إنّ الله يُحِبّ التوابين ويحب المتطهرين۔ ساقه لیا۔ اور یہ ایک نیا نشان ہے۔ اور آفتاب روشن ہے۔ پس چاہئے کہ ہدایت قبول کرے جو چاہے خدا تو بہ کر نیوالوں اور پا کی طلب کر نیوالوں سے پیار کرتا ہے۔ وإنها تشفى النفس، وتنفى اللبس، وتوضح المُعمَّى، وتكشف السر عن اور یہ لیکھرام کے قتل کا نشان جان کو تسلی دیتا ہے اور شبہ کو دور کرتا ہے اور معنی کو کھولتا ہے ۔ اور بھید کی پنڈلی والـعُـمـى، وتُـتـم الـحـجـة عـلـى الـمُجرمين۔ فيـا حَـرة عـلـى الـمخالفين إنّهم اور امر پوشیدہ کی ساق دکھلاتا ہے۔ اور مجرموں پر حجت پوری کرتا ہے۔ پس افسوس مخالفوں پر کہ و