حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 494

حجة اللہ — Page 162

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۶۲ حجة الله ۱۴ اب منصفین کو سوچنا چاہیے کہ یہ لوگ حق پوشی کے لئے کیسے دجالی کام کر رہے ہیں اور کس قدر شیطانی جھوٹھوں کو استعمال کر کے لوگوں کو تباہ کرتے ہیں۔ اگر یہ شخص اپنی عربی دانی میں سچا تھا اور فی الواقعہ مجھ کو محض اُمی اور ناخواندہ اور جاہل سمجھتا تھا تو اس کو تو خدا نے موقعہ دیا تھا کہ میں مقابلہ کرنے پر آمادہ ہو گیا تھا اور میں نے حتمی وعدہ سے کہہ دیا تھا کہ اگر میں مغلوب ہو گیا تو میں اپنے تئیں جھوٹھا سمجھوں گا لیکن اگر میں غالب ہوا تو مجھے سچا سمجھنا چاہیے تو پھر کیا سبب تھا کہ وہ گریز کر گیا۔ کیا یہ انصاف کی بات تھی کہ اگر میں مغلوب ہو جاؤں تو مجھے اپنے دعوی میں جھوٹھا سمجھا جائے لیکن اگر میں غالب ہو جاؤں تو مجھے صرف ایک عربی دان سمجھا جائے۔ کیا میں نے یہ تمام عربی کتابیں مولوی کہلانے کے شوق سے شائع کی تھیں۔ مجھے تو مولویت کے لفظ سے قدیم سے نفرت ہے اور بدل بیزار ہوں کہ کوئی مجھ کو مولوی کہے۔ میں نے تو ان کتابوں کی تالیف سے صرف خدا کا نشان پیش کیا تھا کیونکہ یہ ولایت کامل طور پر حل نبوت ہے۔ خدا نے نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اثبات کے لئے پیشگوئیاں دکھلا ئیں سو اس جگہ بھی بہت سی پیشگوئیاں ظہور میں آئیں ۔ خدا نے دعاؤں کی قبولیت سے اپنے نبی علیہ السلام کی نبوت کا ثبوت دیا۔ سو اس جگہ بھی بہت سی دعائیں قبول ہوئیں۔ یہی نمونہ استجابت دعا کا جو لیکھرام میں ثابت ہوا غور سے سوچو !!! ایسا ہی خدا نے اپنے نبی کو شق القمر کا معجزہ دیا۔ سو اس جگہ بھی قمر اور شمس کے خسوف کسوف کا معجزہ عنایت ہوا ۔ ایسا ہی خدا نے اپنے نبی کو فصاحت بلاغت کا معجزہ دیا سو اس جگہ بھی فصاحت بلاغت کو اعجاز کے طور پر دکھلایا۔ غرض فصاحت بلاغت کا ایک وہ دن نزد یک آجائیں گے اور سزائے ہادیہ کامل طور پر نمودار ہوگی اور پیشگوئی عجیب طور پر اپنا اثر بقيه حاشيه دکھائے گی۔ اور توجہ سے یاد رکھنا چاہیے کہ ہادیہ میں گرائے جانا جو اصل الفاظ الہام ہیں وہ عبداللہ آتھم نے اپنے ہاتھ سے پورے کئے اور جن مصائب میں اس نے اپنے تئیں ڈال لیا اور جس طرز سے مسلسل گھبراہٹوں کا سلسلہ اس کے دامنگیر ہو گیا اور ہول اور خوف نے اس کے دل کو پکڑ لیا یہی اصل ہاویہ تھا۔ اور سزائے موت اس کے کمال کے لئے ہے جس کا ذکر الہامی عبارت میں موجود بھی نہیں ۔ بے شک یہ مصیبت ایک ہاویہ تھا جس کو عبد اللہ آتھم نے اپنی حالت کے موافق بھگت لیا لیکن وہ بڑا ہادیہ جو موت سے تعبیر کیا گیا ہے اس میں کسی قدر مہلت دی گئی کیونکہ حق کا رعب اس نے