حجة اللہ

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 163 of 494

حجة اللہ — Page 163

روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۶۳ حجة الله الہی نشان ہے اگر اس کو توڑ کر نہ دکھلاؤ تو جس دعوئی کے لئے یہ نشان ہے وہ اس نشان اور ۱۵ کے دوسرے نشانوں سے ثابت اور تم پر خدا کی حجت قائم ہے۔ یہ جواب تھا جو عبد الحق کو لکھا گیا تھا لیکن اب چونکہ وقت حد اور اندازہ سے گذر گیا اور اس طرف سے کوئی جواب نہ آیا اور شیخ نجفی نے بھی چند روز کی مصلحت کیلئے صدیق اکبر اور فاروق اعظم کا پیچھا چھوڑ کر میری طرف اپنے تبروں کے تمام فیروں کو جھکا دیا اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس لاف زن نجدی اور غزنوی کی سرکوبی کے لئے چند مختصر ورق عربی کے بطور نشان لکھے جائیں اور ان پر اپنے صدق اور کذب کا حصر رکھا جائے کیونکہ اگر خدا میرے ساتھ ہے اور میں خوب جانتا ہوں کہ وہ میرے ساتھ ہے تو وہ ان لوگوں کو مقابلہ کی طاقت نہیں دے گا اس لئے میں نے لیکھرام کی موت کے بعد ۸ مارچ ۱۸۹۷ء کو اس مضمون کے لکھنے کا ارادہ کیا لیکن باعث ضروری اشتہارات کے شائع کرنے میں کچھ تو قف ہو گیا۔ اب ۱۷ مارچ ۱۸۹۷ء سے لکھنا شروع کیا ہے سو یقین رکھتا ہوں کہ میں اس اردو تمہید کے بعد ایک ہفتہ تک اس قدر عربی مضمون انشاء اللہ القدیر اسی کے فضل اور قوت اور توفیق سے لکھ لوں گا جو مخالفوں کیلئے بصورت نشان تجلی کرے گا اور میں اس وقت وعدہ محکم کرتا ہوں کہ اگر کوئی شخص ان دونوں میں سے یعنی نجفی اور غزنوی میں سے اس میعاد کے اندر جو سترہ مارچ ۱۸۹۷ ء سے اشاعت کے دن تک ہو سکتی ہے یعنی اس دن کہ یہ رسالہ ان کے پاس پہنچ جائے اس مضمون کی نظیر اسی کے حجم اور ضخامت کے مطابق اور اسی کی نظم اور نثر کے موافق بالمقابل شائع کر دے اور پروفیسر عربی مولوی عبداللہ صاحب یا کوئی اور پروفیسر جو مخالف تجویز کریں ایسی قسم کھا کر جو مؤکد بعذاب الہی ہو جلسہ عام میں کہہ دیں کہ یہ مضمون تمام مراتب بلاغت اور فصاحت کے رو سے مضمون پیش کردہ سے بڑھ کر یا برابر ہے اور پھر قسم کھانے والا میری دعا کے بعد اکتالیس دن تک عذاب الہی میں ماخوذ نہ ہو تو میں اپنی کتا بیں جلا کر جو میرے قبضہ میں ہوں گی ۔ 17 کے اپنے سر پر لے لیا۔ اس لئے وہ خدا تعالیٰ کی نظر میں اس شرط سے کسی قدر فائدہ اٹھانے کا مستحق ہو گیا جو الہامی عبارت میں درج ہے۔ اور ضرور ہے کہ ہر ایک امر کا ظہور اسی طور سے ہو جس طور سے خدا تعالیٰ کے الہام میں وعدہ ہوا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ اس ہمارے بیان میں وہی شخص مخالفت کرے گا جس کو مسٹر عبد اللہ آتھم کے ان تمام واقعات پر پوری اطلاع نہ ہوگی اور یا جو تعصب اور بخل اور سید دلی سے حق پوشی کرنا چاہتا ہے۔