حجة اللہ — Page 161
روحانی خزائن جلد ۱۲ ۱۶۱ حجة الله گٹھڑی میں اور کچھ نہیں ۔ اور ایسا ہی عبدالحق نے بھی اپنے اشتہار مذکورہ بالا میں یہی لاف زنی کی ہے (۱۳) اور میری نسبت لکھا ہے کہ یہ کتابیں جو وہ شائع کرتا ہے عربی دان لوگوں سے عربی کرا کے چھپواتا ہے اور مجھے یقیناً معلوم ہے کہ اس کو عربی کی ہر گز لیاقت نہیں اگر اس کو ضرور لیاقت دی گئی ہے تو مجھ سے عام علماء کی مجلس میں عربی زبان میں بحث کرے دونوں کی عربی قلمبند ہو جائے گی بعدہ علماؤں پر پیش کی جائے گی ۔ اگر فوقیت لے گیا تو مانا جائے گا کہ یہ رسائل عربی اس نے بنائے ہیں اور بحث تقریری بالمشافہ ہوگی۔ اگر بحث میں تجھ سے کچھ نہ بنا تو لعنة اللہ علی الکاذہین “۔ اس کے جواب میں ضمیمہ انجام آتھم میں اس کو لکھا گیا کہ ہم اس مقابلہ کیلئے طیار ہیں لیکن تمہیں یادر ہے کہ ہم بار بار لکھ چکے ہیں کہ یہ عربی کتا بیں اس لئے تالیف نہیں ہوئیں کہ لوگ ہمیں عربی دان سمجھیں اور مولوی خیال کریں بلکہ ان کتابوں میں بار بار یہ جتلایا گیا ہے کہ یہ خدا کا نشان ہے اور بطور معجزہ کے مجھ کو دیا گیا ہے تا میرے دعوئی پر یہ بھی ایک دلیل ہو۔ میں نے کب اور کہاں لکھا ہے کہ عربی کتابوں سے یہ مطلب ہے کہ اگر کوئی مغلوب ہو تو مجھے عربی دان مان لے۔ سو یہ اقرار کرنا چاہیے کہ اگر تم با وجود اتنے دعوی فضیلت اور عربی دانی کے میرے جیسے انسان سے صاف شکست کھا جاؤ جس کی نسبت تمہیں اسی اشتہار میں اقرار ہے کہ اس شخص کوعربی دانی کی ہر گز لیاقت نہیں تو یہ نشان تم تسلیم کرلو گے اور یقین دل سے سمجھ لو گے کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک معجزہ ہے اور اسی وقت تو بہ کر کے میری بیعت میں داخل ہو جاؤ گے لیکن دو مہینے کے قریب عرصہ گذر گیا کہ اب تک عبدالحق کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا گویا وہ مر گیا۔ پورے طور پر اپنے پر ڈال لیا اور جس قدر ایک انسان ایک سچی اور واقعی بلا سے ڈرسکتا ہے اسی قدر وہ اس پیشگوئی سے ڈرا ۔ اس کا دل ظاہری حفاظتوں سے مطمئن نہ ہو سکا اور حق کے رعب نے اس کو دیوانہ سا بنا دیا ۔ سوخدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ اس کو ایسی حالت میں ہلاک کرے کیونکہ یہ اس کے قانون قدیم اور سنت قدیمہ کے مخالف ہے اور نیز یہ الہامی شرط سے مغائر اور برعکس ہے اور اگر الہام اپنی شرائط کو چھوڑ کر اور طور پر ظہور کرے تو گو جاہل لوگ اس سے خوش ہوں مگر ایسا الہام الہام الہی نہیں ہو سکتا اور یہ غیر ممکن ہے کہ خدا اپنی قرار دادو شرطوں کو بھول جائے کیونکہ شرائط کا لحاظ رکھنا صادق کے لئے ضروری ہے اور خدا اصدق الصادقین ہے۔ ہاں جس وقت مسٹر عبد اللہ آتھم اس شرط کے نیچے سے اپنے تئیں باہر کرے اور اپنے لئے اپنی شوخی اور بے باکی سے ہلاکت کے سامان پیدا کرے تو بقيه حاشيه