حقیقةُ الوحی — Page 564
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۶۴ تتمه مرشد تھے بر خلاف اُن کے تمام دعووں کے فوت ہو کر ایک سخت مصیبت میں اُن کو چھوڑ گئے اور طاعونی مادہ سے گھر کو بھی آلودہ کر گئے ۔ اب بھی خدا تعالیٰ اُن کے رفیقوں کو کچھ سمجھ دے تا وہ حق کو شنا محت کر لیں۔ پھر صفحہ ۲۹۴ میں ایک اور الہام اُن کا ہے اور وہ یہ ہے قل جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل كان زهوقا ۔ قل لَسْتَ مُرُسُلًا ذرهم يخوضوا ويلعبواحتى يلاقوا يومهم الذى كانوا يوعدون یعنی حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور اپنے مخالف کو یعنی اس عاجز کو کہہ دے کہ تو خدا کی طرف سے نہیں اور ان کو چھوڑ دے تا وہ چند روز لہو و لعب میں رہیں جب تک کہ طاعونی موت کا وعدہ جو دیا گیا ہے وہ وعدہ کا دن نہ آجائے ۔ سبحان اللہ یہ کیسے الہام ہیں یہ کیسا حق تھا کہ جھوٹ کے سامنے سے بھاگ گیا اور الہام کو جھوٹا کر گیا اور یہ کیسا وعدہ طاعون کا تھا جو غلطی کھا کر خود ہم پر ہی وارد ہو گیا ۔ کوئی منصف بتلاوے کہ یہ الہامات اگر شیطانی نہیں تھے تو اور کیا تھا۔ اگر خدا اپنے پیاروں کو ہمیشہ طاعون سے بچاتا رہا ہے تو بے چارہ الہی بخش جس کو یہ الہام ہوا تھا کہ بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر اور یہ الہام ہوا تھا قل ان کنتم ۱۳۸ تحبون الله فاتبعوني يحببكم الله اس کو اس سنت اللہ سے کیوں محروم رکھا گیا ۔ جو شخص خدا کے بعد سب سے بزرگ تر ہے اور پھر خدا کا ایسا پیارا کہ اُس کی پیروی سے انسان خدا کا پیارا بن جاتا ہے اس پر کیوں یہ رجز آسمانی نازل کیا گیا جو عموماً فاسقوں اور فاجروں پر نازل ہوتا ہے۔ کیا ابھی وقت نہیں آیا کہ منصف مزاج لوگ اس بات کو سمجھ لیں کہ بابو الہی بخش کا ایسی نامرادی کے ساتھ دنیا سے کوچ کرنا اور پھر طاعون سے کوچ کرنا اور پھر تمام الہامات کے منشاء کے برخلاف کوچ کرنا ایک فیصلہ کن امر ہے۔ اور اگر متعصب لوگ ابھی سمجھ نہیں سکتے تو یقیناً یا درکھیں کہ خدا تعالیٰ کسی سے عاجز نہیں ہوسکتا وہ کوئی اور نشان دکھائے گا مگر افسوس اُن لوگوں پر جو خدا کے صد بانشان جو روز روشن کی طرح ظاہر ہوتے جاتے ہیں اُن سے تو کچھ فائدہ نہیں اُٹھاتے اور صرف دو تین ایسی پیشگوئیاں جو نفس امر کے متعلق پوری ہوگئی