حقیقةُ الوحی — Page 565
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۶۵ تتمه ہیں یا نصف حصہ اُن کا پورا ہوچکا ہے اور وہ وعید کی پیشگوئیاں ہیں اور سنت اللہ کے موافق اُن پر کوئی اعتراض نہیں۔ بار بار انہیں کو پیش کرتے ہیں کیا یہ ایمانداری ہے کہ دس ہزار نشان سے منہ پھیرنا اور اگر کسی نشان کی حقیقت سمجھ نہ آوے تو اس پر زور دینا اگر یہی بات ہے تو ان لوگوں کا ایمان آج بھی نہیں اور کل بھی نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ کا کوئی معاملہ مجھ سے ایسا نہیں جس میں کوئی نبی شریک نہ ہو اور کوئی اعتراض میرے پر ایسا نہیں کہ کسی اور نبی پر وہی اعتراض وارد نہ ہوتا ہو۔ پس ایسے شخص جو میرے پر اعتراض کرنے کے وقت یہ بھی نہیں سوچتے کہ یہی اعتراض بعض اور نبیوں پر بھی وارد ہوتا ہے وہ سخت خطر ناک حالت میں ہیں اور اندیشہ ہے کہ دہر یہ ہو کر نہ مریں ۔ یادر ہے کہ جس اصرار اور شوخی کے ساتھ بابو الہی بخش نے میرے ساتھ مقابلہ کیا اور میری طاعونی موت اور ہر ایک قسم کی نامرادی کی خبریں دیں۔ اگر یہ معاملہ اسی طرح واقع ہو جاتا اور میں بابو الہی بخش کی زندگی میں مر جاتا تو نہ معلوم کہ بابو صاحب کے دوست کن کن لعنتوں کے ساتھ مجھ کو یاد کرتے اور کس معراج عزت اور اوج پر اُن کو چڑھا دیتے مگر اب ایک شخص بھی اُن میں سے نہیں بولتا اور چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا یہ نشان معدوم ہو جائے اور اُن کو خوب معلوم ہے کہ بابو صاحب مباہلہ اور میری پیشگوئی کا نشانہ ہو گئے ہیں اگر وہ نرمی (۱۲۹) اختیار کرتے تو شاید کوئی دن اور بچ جاتے مگر اُن کے حدیث النفس کے الہام اُن کے لئے زہر قاتل ہو گئے۔ اُن کو خبر نہ تھی کہ خدا کا سچا مکالمہ موت کے بعد حاصل ہوتا ہے جو شخص در حقیقت اپنی تمام ہوا و ہوس اور جذبات نفسانیہ اور ہر ایک قسم کی تیزی اور شوخی کے جوش سے پاک ہو جاتا ہے اور اُس پر خدا کے لئے ایک موت آ جاتی ہے وہی زندہ کیا جاتا ہے اور خدا کا مکالمہ فانیوں کے لئے ایک انعام ہوتا ہے۔ ہر ایک مدعی کو یہ دیکھنا چاہیے کہ در حقیقت وہ فانی ہو چکا ہے یا ابھی جذبات نفسانیہ سے پر ہے۔ حيح بعض شریر کذاب کہتے ہیں کہ اگر مرزا سے نشان ظاہر ہوتے ہیں تو مسیلمہ کذاب سے بھی نشان ظاہر ہوئے ہیں ان کے جواب میں صرف یہ کہنا کافی ہے کہ لعنة الله على الكاذبين منه