حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 563 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 563

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۶۳ تتمه آیا ہے لِمَ يُعَذِّبُكُمْ بِذُنُوبِكُمْ ، ہاں مومن مذنب جو اول طبقہ میں داخل نہیں اور گناہوں اور کمزوریوں سے خالی نہیں اس کو کبھی تمحیص اور تطہیر کی غرض سے طاعون ہو سکتی ہے مگر خدا سے جو موسیٰ بن کر آیا ہے اُس کو تو نہیں ہو سکتی بلکہ کامل مومن اس آیت کے نیچے ہیں کہ أو ليكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ " اور اگر آپ منشی الہی بخش صاحب کو فرقہ ضالین میں داخل سمجھتے ہیں تب تو یہ خطاب اُن کے لئے نہایت معقول ہے کیونکہ عمداً اُنہوں نے حق کو چھوڑ دیا اور پھر اس قدر بد زبانی اور شوخی اور اشتعال میں کمال کو پہنچ گئے کہ کیا مجال کہ کوئی بات بھی سن سکیں جس شخص نے میرا ذکر اُن کے سامنے پیش کیا اول تو مجھے اُنہوں نے دس ہیں گالیاں سنا دیں اور پھر عمد اسچی بات سے انکار کر دیا مگر آخر خدا تعالیٰ ہر ایک دل کو جانتا ہے پس در حقیقت اُن کے ساتھ جو خدا تعالیٰ نے ایک معاملہ کیا ہے وہ دانشمندوں کے لئے ایک عبرت کے لائق ہے اور میرا دل جانتا ہے کہ انہوں نے مجھے بہت ہی دکھ دیا تھا۔ تا دل مرد خدا نامد بدرد هیچ قومی را خدا رسوا نه نه کرد بھلا آپ لوگ خدا تعالیٰ کا خوف مدنظر رکھ کر یہ تو بتلادیں کہ کیا آپ لوگوں کی یہی مراد تھی (۱۲۷) اور سچ مچ آپ کی یہی تمنا تھی کہ الہی بخش تو نا مرادی کے ساتھ طاعون سے مر جائے اور وہ اُس کا مخالف جس کے لئے اُس نے ہزاروں انسانوں میں شہرت دے دی تھی کہ وہ طاعون سے مرے گا خدا اُس کو اس مرض سے بچاوے اور اُس کو نمایاں ترقیات بخشے اور صد ہا نشان اُس کے لئے دکھلاوے یہاں تک کہ الہی بخش کی موت کو بھی اُس کے نشانوں میں سے ایک نشان کر دے۔ کیا وہ الہام جو با بو الہی بخش صاحب کو ہوا تھا کہ يميز الخبيث من الطيب يعنى خدا پاک اور ناپاک میں امتیاز کر کے دکھلاوے گا۔ کیا اس کے یہی معنی تھے کہ بابو الہی بخش طاعون سے ہلاک ہو کر اپنے پس ماندوں کو داغ حسرت دے جاوے گا۔ وہ دن کیسا سخت اور تلخ منشی عبدالحق صاحب اور ان کے دوستوں پر تھا جب اُن کے گھر میں بابوصاحب جو اُن کے لے المائدة : ١٩ الانبياء : ۱۰۲