حقیقةُ الوحی — Page 562
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۶۲ تتمه اور ہر ایک پہلو سے خدا نے میری مدد کی اور قرآن شریف میں کھلے طور پر لکھا ہے کہ كتب الله لَا غُلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلی لے یعنی خدا تعالی کا یہ حتمی وعدہ ہے کہ جو لوگ اُس کی طرف سے آتے ہیں وہ فریق مخالف پر غالب ہو جاتے ہیں۔ پس اس میں کیا راز ہے کہ بابو صاحب میرے مقابل پر غالب نہ آ سکے اور ایک بڑا طاعون کا طوفان جو اس ملک میں اٹھا تھا اور اُس طوفان سے زیادہ تھا جو موسیٰ اور فرعون کے سامنے نمودار ہوا تھا بلکہ اس سے بہت ہی بڑا تھا۔ اس طوفان میں بابو صاحب با وجود موسیٰ کہلانے کے غرق ہو گئے اور جس کو فرعون کہتے تھے اُس کو خدا نے اپنے فضل و کرم سے نجات دی۔ میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ اس وقت ان کے منہ سے یہ الفاظ ضرور نکلے ہوں گے کہ آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِى أَمَنَتْ بِهِ بَنُوا إِسْرَاوِيْل کے پھر میں پوچھتا ہوں کہ خدا نے سورہ فاتحہ میں جو ام الکتاب ہے انسانوں کے تین طبقے رکھے ہیں۔ (۱) منعم علیہم (۲) مغضوب علیہم (۳) ضالین ۔ پس اب سوچ کر فرما دیں کہ بابو الہی بخش صاحب کو خدا تعالیٰ نے کسی طبقہ ۱۲۶ میں داخل کیا ہے۔ اگر آپ کے نزدیک وہ منعم علیہم میں داخل ہیں تو یہ ثبوت آپ کے ذمہ ہے کہ جو طبقہ منعم علیہم کا کتاب اللہ سے ثابت ہے اس طبقہ والوں کو کبھی طاعون بھی ہوئی ہو اور پھر ساتھ اس کے یہ بھی ثابت کرو کہ اُن پر انعام کیا ہوا اور انعام وہ چاہیے جو دنیا کے سامنے ایک ثابت شدہ امر ہو عیسائیوں کے کفارہ کی طرح نہ ہو یعنی صرف اپنا خیال نہ ہو اور اگر مغضوب علیہم میں داخل ہیں تو یہ قرین قیاس ہے کیونکہ قرآن شریف اور توریت سے ثابت ہے کہ طاعون خدا کے غضب کی نشانی ہے اور جو اول طبقہ کے مومن اور برگزیدہ ہوتے ہیں اُن کو کبھی طاعون نہیں ہوئی جیسے انبیاء اور صدیق اور کوئی ثابت نہیں کر سکتا کہ اس طبقہ کے لوگوں کو کبھی طاعون ہوئی ہے کیونکہ یہ رجز اللہ جو کفار اور فاسقین اور گناہ پر اصرار کرنے والوں کو سزا دینے کے لئے نازل ہوتی ہے اُس میں برگزیدہ لوگ ہرگز ہرگز شریک نہیں کئے جاتے ۔ پس جو اپنے تئیں خدا کا ایسا پیارا ٹھہراتا ہے کہ عصائے موسیٰ میں یہ الہام لکھا ہے قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببكم الله ایسا محبوب طاعون میں کیوں گرفتار ہو گیا۔ یہود کی نسبت المجادلة :٢٢ یونس : ۹۱