حقیقةُ الوحی — Page 549
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۴۹ تتمه ۔ پڑ جائیں اور اُس کی نظیر نہ پیش کر سکیں اور یا اس کثرت سے وہ نشان ہوں کہ کثرت کے لحاظ سے (۱۱۳ کسی کو طاقت نہ ہو کہ وہ کثرت اپنے نشانوں میں یا کسی اور مفتری کے نشانوں میں دکھلا سکے اس کا نام خدا کی شہادت ہے جیسا کہ قرآن شریف میں اللہ جل شانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے وَيَقُولُ الَّذِيْنَ كَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا قُلْ كَفَى بِاللهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الكتب لے یعنی جو لوگ کہتے ہیں کہ تو خدا کا رسول نہیں ۔ اُن کو کہہ دے کہ تم میں اور مجھ میں خدا گواہ کافی ہے اور نیز وہ جس کو کتاب کا علم ہے۔ اب ہم باقی الہام الہی بخش کے جو اُس کی کتاب عصائے موسیٰ میں میری نسبت درج ہیں اس جگہ ناظرین کے غور اور انصاف کے لئے درج کر دیتے ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی کتاب کے صفحہ ۷۹ میں میری نسبت یہ الہام لکھتا ہے۔ اُڑ جائیں گے زبان خلق کو نقارہ خدا سمجھو یعنی ہزار ہا مخالف جوان کی ہلاکت کے خواہشمند ہیں ایسا ہی ہو جائے گا۔ پھر صفحہ ۸۰ کتاب مذکور میں لکھتا ہے اللَّهُمَّ افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَانْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ “ اور اس کو بھی میری نسبت ہی قرار دیتا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ اے خدا ہم میں اور ہماری قوم میں سچا سچا فیصلہ کر۔ سوالحمد للہ وہ فیصلہ کے را پریل ۱۹۰۷ء کو ہو گیا اور میاں الہی بخش مجھے ہزاروں گالیاں نکال کر اور کذاب اور مفسد اور دجال اور مفتری کہہ کر اور میری نسبت غضب الہی اور طاعون کے وعدے دے کر خود تاریخ مذکور میں صرف ایک ہی دن میں اس نا پائیدار دنیا کو چھوڑ گیا۔ فاعتبروا یا اولی الابصار، دیکھو ہماری فرعونیت آخر غالب آگئی موسیٰ کو طاعون نے ایسا دبایا کہ نہ چھوڑا جب تک اُس کی جان نہ نکال لی۔ پھر با بو الہی بخش اسی کتاب کے صفحہ انٹی میں اپنے الہام میں مجھے طاعون کی دھمکی دیتا ہے جیسا کہ الہام یہ ہے ”رجزًا من السماء على القرية التي كانت حاضرة ۔۔۔ ولهم عذاب اليم۔ ولا يزيد الظالمين إِلَّا تبارًا۔ " یعنی طاعون نازل ہوگی اور وہ مع اپنی ۱۴ کے جماعت کے طاعون میں مبتلا ہو جائے گا اور خدا ان ظالموں پر ہلاکت نازل کرے گا۔ یہ ہیں الہامات الہی بخش جن سے وہ اپنے چند دوستوں کو خوش کرتا تھا مگر اب اُن کے دوست خاص کر الرعد : ۴۴