حقیقةُ الوحی — Page 550
روحانی خزائن جلد ۲۲ تتمه ۔ منشی عبدالحق صاحب خدا سے ڈر کر گواہی دے سکتے ہیں کہ آخر کس شخص پر طاعون نازل ہوئی۔ پھر ایک اور الہام اُن کا میرے پر عذاب نازل ہونے کے بارہ میں ہے جو اس کی کتاب کے صفحہ ۸۳ میں موجود ہے اور وہ یہ ہے سنسمه علی الخرطرم۔ ما رميت اذ رميت ولكن الله رمی (ترجمہ) اس مفتری کو یعنی اس مفتری کی ناک پر یا منہ پر ہم آگ کا داغ لگائیں گے یعنی اس کو طاعون سے ہلاک کریں گے یا یہ کہ جہنم کی آگ میں ڈالیں گے۔ یہ تیر جو تو نے (اے الہی بخش ) چلایا یہ تو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا ۔ پھر صفحہ ۹ سطر۱۳ میں یہ الہام لکھا ہے۔ متع المسلمين بطول حياتك وبطول بقائك۔ ينفع المسلمين بطول حیاتک و بطول بقائک۔۔۔ پھر بعد اس کے یہ عبارت ہے اور جو خدمت مجھ کو سپرد ہوئی ہے جب تک پوری نہ ہوتب تک میں ہرگز نہ مروں گا۔ بابو الہی بخش صاحب کی کتاب عصائے موسیٰ کے دیکھنے کے بعد معلوم ہوگا کہ وہ اُس کتاب کی تالیف سے چھ برس حاشیہ اگر کوئی یہ شک کرے کہ یہ تمام الہامات جو عصائے موسیٰ میں با بوالہی بخش نے لکھے ہیں کس طرح معلوم ہو کہ وہ اس راقم کے لئے لکھے گئے ہیں تو واضح ہو کہ بابو الہی بخش نے یہ کتاب عصائے موسیٰ خاص میرے پر مخالفانہ حملہ کرنے کی غرض سے تالیف کی ہے اور بجز میری تکذیب اور توہین کے اس کتاب کی تالیف کی اور کوئی غرض نہ تھی اور بابوصاحب ہمیشہ پوشیدہ طور پر میری نسبت اپنے دوستوں میں ایسے ایسے الہام مشہور کرتے تھے جن کا خلاصہ یہ تھا کہ گویا میں کاذب اور کافر اور فرعون ہوں اور وہ موسیٰ ہیں اور میں جلد تر اُن کے ذریعہ سے اور اُن کے الہام کی رو سے خدا کے عذاب میں گرفتار ہو جاؤں گا اور اس جگہ یہ بھی یادر ہے کہ جیسا کہ کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۲ و ۴ و ۶ و ۷ و ۸ و۹ میں درج ہے با بوالہی بخش کے ساتھ اُن کے مخالفانہ الہامات کے بارہ میں میری خط و کتابت ہوئی تھی اور عصائے موسیٰ کے صفحہ ۲ کے خط میں میں نے بابو صاحب سے درخواست کی تھی کہ جس قدر آپ میری نسبت تکذیب کے الہام مشہور کرتے ہیں اور محض زبانی طور پر اپنے دوستوں کو سناتے ہیں وہ قسم کھا کر شائع کر دیں تا اگر آپ کے وہ الہام جھوٹ اور افترا ہیں تو خدا تعالیٰ جھوٹ کی پاداش دے۔ اس خط کا جواب انہوں نے وہ دیا کہ جو اُن کی کتاب کے صفحہم میں درج ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ قسم کھانے کی کچھ ضرورت نہیں۔ اگر میں نے خدا پر افترا کیا ہے تو وہ بغیر قسم بھی مجھے سزادے گا اور میں الہامات شائع کر دوں گا۔ پھر اس کے جواب میں صفحہ ے میں میری طرف سے یہ عبارت ہے۔ میں صرف خدا سے عقدہ کشائی چاہوں گا تا وہ لوگ جو مجھے مسرف کذاب کا نام دیتے ہیں اور وہ لوگ جو مجھے مسیح موعود مانتے ہیں۔ اُن میں اللہ تعالیٰ خود فیصلہ کرے۔ منہ ا ترجمہ : خدا تعالیٰ تیری عمر کو لمبی کر کے اور دنیا میں ایک زمانہ دراز تک تجھے رکھ کر تیری بہت لمبی عمر سے مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچائے گا مگر اس کے بعد با بو الہی بخش صرف چھ برس تک زندور ہے۔ یہ ہے لمبی عمر کا الہام ۔ منہ