حقیقةُ الوحی — Page 548
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۵۴۸ تتمه کلمات کو خدا کا کلام سمجھ لے بلکہ خدا کے قول کے ساتھ خدا کے فعل کی شہادت ضروری ہے اور شہادت بھی زبردست شہادت درکار ہے کیونکہ یہ دعوئی کہ خدا مجھے سے مکالمہ مخاطبہ کرتا ہے یہ کچھ چھوٹا سا دعویٰ نہیں اور اگر مدعی اس دعوے کا خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہو تو ایک دنیا اُس کے ذریعہ سے ہلاک ہو سکتی ہے۔ لہذا ایسے شخص کے قولی دعوے کے لئے خدا تعالیٰ کی ایسی فعلی شہادت درکار ہے جس کو وہ قدیم سے اپنے تمام صادق رسولوں اور نبیوں کی تائید میں ادا کرتا رہا ہے۔ اور اس خفیف اور ناچیز امر کو خدا کی فعلی شہادت قرار نہیں دے سکتے جو معمولی انسانوں کی سوانح سے ملتا جلتا ہو۔ مثلاً کوئی خواب میں دیکھتا ہے کہ میرے گھر میں یا کسی کے گھر میں لڑکا پیدا ہوگا اور اتفا قائڑ کا ہی پیدا ہو جاتا ہے یا دیکھتا ہے کہ فلاں شخص مر جائے گا اور اتفاقاوہ مرہی جاتا ہے یا دیکھتا ہے کہ فلاں شخص فلاں کام میں نا مرادر ہے گا اور اتفا قادہ نا مراد ہی رہ جاتا ہے۔ ایسے خوابوں میں تمام دنیا شریک ہے بلکہ کافروں اور مشرکوں کو بھی اس سے حصہ ہے۔ پس اگر معمولی رنگ میں کسی شخص کو ایسی خواب آوے اور وہ خواب یا وہ الہام کیفیت یا کمیت میں کوئی خصوصیت نہ رکھتا ہو تو وہ اس بات پر دلیل نہیں ہو سکتی کہ وہ شخص خدا تعالی کی طرف سے ہے بلکہ جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں ایسی خوا میں فاسقوں اور فاجروں کو بھی آسکتی ہیں پس ایسی خوابوں اور ایسے الہاموں پر مغرور نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنے لئے اس کو ابتلا سمجھنا چاہیے۔ اور بچے مامور کے لئے یہ شرط ہے کہ ایسے امور جو خدا کا نشان کہلا سکتے ہیں کیفیت اور کمیت میں اس حد تک پہنچ گئے ہوں کہ عام لوگوں میں سے کوئی شخص اُس کا مقابلہ نہ کر سکے اور ایسے شخص کے ساتھ کھلے کھلے طور پر خدا تعالیٰ کا ہاتھ چلتا نظر آوے اور اُس کی فوق العادت تائید میں نشانات بارش کی طرح برستے ہوئے محسوس ہوں جن سے معلوم ہو کہ خصوصیت کے ساتھ ہر ایک راہ میں خدا اُس کا مؤید ہے۔ غرض بڑی علامت یہی ہے کہ وہ آسمانی نشان اور وہ تائید اور نصرت اس حد تک پہنچ جائے کہ روئے زمین پر کوئی اُس کا مقابلہ نہ کر سکے اور گو ایک ہی نشان ہو مگر ایسا زبردست اور ذی شان ہو کہ اس کو دیکھ کر سب دشمن مردہ کی طرح