حقیقةُ الوحی — Page 394
روحانی خزائن جلد ۲۲ منجانب اللہ الہام ہوا: ۳۹۴ حقيقة الوحي چل رہی ہے نسیم رحمت کی جو دعا کیجئے قبول ہے آج (۳۸۰) اس دعا کے بعد خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے وہ مشکلات اُن کے دور کر دیئے اور انہوں نے شکر گزاری کا خط لکھا اس واقعہ کا وہی خط گواہ ہے جو میرے کسی بستہ میں موجود ہو گا اور کئی اور لوگ گواہ ہیں بلکہ اُس وقت صدہا آدمیوں میں یہ میرا الہام شہرت پا گیا تھا اور نواب علی محمد خان مرحوم رئیس جھجر نے بھی اپنی یادداشت میں اُس کو لکھ لیا تھا۔ ۱۷۹۔ نشان۔ مولوی کرم دین کے مقدمہ میں جو گورداسپور میں دائر تھا کرم دین مذکور اس بات پر زور دیتا تھا کہ ٹیم کے لفظ کے معنی ولد الزنا ہیں اور کذاب کے یہ معنی ہیں جو ہمیشہ جھوٹ بولتا ہو یہی معنی پہلی عدالت نے قبول کئے ۔ ان دنوں میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھے الہام ہوا۔ معنی دیگر نہ پسندیم ما جس سے یہ تفہیم ہوئی کہ دوسری عدالت میں یہ معنی قائم نہیں رہیں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اپیل کی عدالت میں صاحب ڈویزنل جج نے ان تمام عذرات کو رد کر دیا اور یہ لکھا کہ کذاب اور ٹیم کے الفاظ کرم دین کے مناسب حال ہیں بلکہ وہ اس سے بڑھ کر الفاظ کا بھی مستحق ہے سو صاحب ڈویزنل جج نے وہ پُر تکلف معنے کرم دین کے پسند نہ کئے جو پہلی عدالت میں پسند کئے گئے تھے دیکھو اخبار الحکم نمبرے اجلد۔ ۲۴ مئی ۱۹۰۴ ء جس میں یہ الہام موجود ہے۔ ۱۸۰۔ نشان ۔ ایک دفعہ ۱۹۰۲ء میں مجھے الہام ہوا یریدون ان يطفوا نورک ۔ و يتخطفوا عرضك وانی معک و مع اهلک یعنی دشمن لوگ ارادہ کریں گے کہ تیرے نور کو بجھا دیں اور تیری آبروریزی کریں مگر میں تیرے ساتھ ہوں گا اور اُن کے ساتھ جو تیرے ساتھ ہیں اور ان ہی دنوں میں میں نے دیکھا کہ میں ایک کو چہ میں ہوں جو آگے سے بند ہے اور بہت تنگ کوچہ ہے کہ بمشکل ایک آدمی اس میں سے گذر سکتا ہے۔ میں بند کو چہ کے آخری حصہ میں جس کے آگے کوئی راہ نہ تھا دیوار کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور جو واپس جانے کی طرف راہ تھی اس کی طرف جب نظر اُٹھا کر دیکھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ تین قوی ہیکل سنڈھے وہاں کھڑے ہیں جو خونی ہیں اور گذرنے کی ی جلد ہونا چاہیے جو کہ ایڈیشن اول میں درج نہیں ۔ (ناشر)