حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 393 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 393

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۹۳ حقيقة الوح جو میں نے بیان کیا تھا تب وہ آریہ لوگ نہایت حیرت میں اور تعجب میں رہ گئے وہ اب تک زندہ موجود ہیں اور حلف دینے سے راست راست بیان کر سکتے ہیں۔ ۱۷۶۔ نشان۔ رسالہ اعجاز المسیح جب فصیح عربی میں میں نے لکھا تو خدا تعالی (۳۷۹ سے الہام پا کر میں نے یہ اعلان شائع کیا کہ اس رسالہ کی نظیر اس فصاحت بلاغت کے ساتھ کوئی مولوی پیش نہیں کر سکے گا تب ایک شخص پیر مہرعلی نام ساکن گولڑہ نے یہ لاف و گزاف مشہور کی کہ گویا وہ ایسا ہی رسالہ لکھ کر دکھلائے گا اُس وقت خدا تعالی کی طرف سے مجھے الہام ہوا منعه مانع من السماء یعنی ایک مانع نے آسمان سے اس کو نظیر پیش کرنے سے منع کر دیا تب وہ ایسا ساکت اور لاجواب ہو گیا کہ اگر چہ عوام الناس کی طرح اردو میں بکواس کرتا رہا۔ مگر عربی رسالہ کی نظیر آج تک لکھ نہ سکا۔ ۱۷۷۔ نشان۔ میرے مکان کے ملحق دو مکان تھے جو میرے قبضہ میں نہیں تھے۔ اور بباعث تنگی مکان توسیع مکان کی ضرورت تھی ایک دفعہ مجھے کشفی طور پر دکھلایا گیا جو اس زمین پر ایک بڑا چبوترہ ہے اور مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ اس جگہ ایک لمبا دالان بن جائے اور مجھے دکھایا گیا کہ اس زمین کے مشرقی حصہ نے ہماری عمارت کے بننے کے لئے دعا کی ہے اور مغربی حصہ کی زمین افتادہ نے آمین کہی ہے۔ چنانچہ فی الفور یہ کشف اپنی جماعت کے صدہا آدمیوں کو سنایا گیا اور اخباروں میں درج کیا گیا بعد اس کے ایسا اتفاق ہوا کہ وہ دونوں مکان بذریعہ خریداری اور وراثت کے ہمارے حصہ میں آگئے اور اُن کے بعض حصوں میں مکانات مہمانوں کے لئے بنائے گئے حالانکہ اُن سب کا ہمارے قبضہ میں آنا محال تھا اور کوئی خیال نہیں کر سکتا تھا کہ ایسا وقوع میں آئے گا دیکھو اخبار الحکم نمبر ۴۶ ۴۷ جلد والحکم نمبر ۳ جلد ۸ ۔ ۱۷۸۔ نشان ۔ ایک دفعہ خلیفہ سید محمد حسن صاحب وزیر ریاست پٹیالہ نے اپنے کسی اضطراب اور مشکل کے وقت میری طرف خط لکھا کہ میرے لئے دعا کریں چونکہ انہوں نے کئی دفعہ ہمارے سلسلہ میں خدمت کی تھی اس لئے اُن کے لئے دعا کی گئی تب جلدے ہونا چاہیے جو کہ ایڈیشن اول میں درج نہیں ۔ (ناشر)