حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 395 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 395

۳۹۵ حقيقة الوحي روحانی خزائن جلد ۲۲ راہ بند کر رکھی ہے ایک اُن میں سے میری طرف حملہ کر کے دوڑا اُس کو میں نے ہاتھ سے ہٹا دیا پھر دوسرا حملہ آور ہوا اُس کو بھی میں نے ہاتھ سے ہٹا دیا۔ پھر تیسرا اس شدت اور جوش (۳۸۱) سے آیا کہ اُسے دیکھ کر یقین ہوتا تھا کہ اب خیر نہیں لیکن جب میرے قریب آیا تو دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا اور میں اس کے ساتھ رگڑ کر اُس کے پاس سے گذر گیا اسی اثناء میں اللہ تعالی کی طرف سے چند کلمات میرے دل پر القا ہوئے جن کو میں پڑھتا جاتا اور دوڑتا تھا اور وہ یہ ہیں رَبِّ كُلُّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِي وَأَنصُرْنِي وَارْحَمْنِي۔ اس واقعہ کے دیکھنے کے ساتھ ہی مجھ کو تفہیم ہوئی کہ کوئی دشمن مقدمہ بر پا کرے گا اور اس کے تین وکیل ہوں گے اور یہ الہام اور کشف قبل ظہور اس مقدمہ کے پرچہ اخبار الحکم ۱۹۰۲ء یعنی الحکم نمبر ۲۴ میں درج ہو کر شائع کی گئی بعد میں کرم دین نے جہلم میں میرے پر مقدمہ کیا اور میری طلبی ہوئی اور وہ مقدمہ فوجداری اور سخت مقدمہ تھا اور جیسا کہ کشفی حالت میں ظاہر کیا گیا تین وکیل اس کے تھے۔ آخر کار بموجب وعدہ الہی وہ مقدمہ اُس کا خارج ہوا دیکھو پر چہ اخبار الحکم ۱۹۰۲ء نمبر ۲۴ جلد ۶ ۱۸۱ نشان ۔ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ ایک لڑکی تمہارے گھر میں پیدا ہوگی اور مر جائے گی اور اُس کا نام غاسق رکھا یعنی غروب ہونے والی اور یہ اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ طفولیت مولوی کرم دین کے متعلق ایک پیشگوئی مفصل طور پر اخبار الحکم میں قبل از وقت شائع ہو چکی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک فوجداری مقدمہ میں عدالت ماتحت میرے برخلاف فیصلہ کرے گی اور پھر عدالت عالیہ سے میری بریت ہو جائے گی چنانچہ کرم دین نے جب گورداسپور میں میرے پر فوجداری مقدمہ کیا تو عدالت ماتحت یعنی آتما رام کے محکمہ سے پانسو روپیہ جرمانہ میرے پر ہوا۔ پھر عدالت عالیہ یعنی صاحب ڈویزنل جج کے محکمہ سے وہ حکم منسوخ ہو کر عزت کے ساتھ میری بریت ہوئی اور حاکم مجوز نے لکھا کہ لفظ کذاب اور لٹیم جو کرم دین کی نسبت استعمال کئے گئے ہیں و محل پر ہیں اور کرم دین ان الفاظ کا مستحق ہے بلکہ اگر ان الفاظ سے بڑھ کر اور سخت الفاظ کرم دین کی نسبت لکھے جاتے تب بھی وہ ان الفاظ کا مستحق تھا ایسے الفاظ سے کرم دین کی کوئی ازالہ حیثیت عرفی نہیں ہوئی ۔ یہ پیشگوئی وقت سے بہت پہلے شائع کی گئی تھی۔ منہ یہ نشان پہلے بھی لکھا جا چکا ہے مگر اب اس جگہ مزید تشریح کے لئے دوبارہ درج کیا گیا۔ منہ