حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 372 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 372

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۷۲ حقيقة الـ اني مهين من اراد اهانتک کے محی الدین کو میری زندگی میں ہی ہلاک کر کے اس کی ذلت ظاہر کر دی اور نہ صرف اس قدر بلکہ اُس کے الہام ان شانئک هو الابتر کے بعد نہ صرف تین بیٹے اور مجھ کو دیئے بلکہ یہ بھی کیا کہ اس کی بیوی کو لا ولد رکھا اور اس طرح پر میری عزت کا ثبوت دنیا پر ظاہر کیا۔ خدا تعالیٰ سے بڑھ کر اپنے وفادار بندوں کے لئے کون غیرتمند ہو سکتا ہے۔ اُس نے میرے لئے غیرت دکھلائی۔ افسوس کہ عبد الرحمن محی الدین نے باوجود مولوی اور ملہم کہلانے کے خدا تعالی سے کچھ خوف نہ کیا اور وعید لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلم سے کچھ نہ ڈرا ۔ تب خدا تعالی کے وعدہ انی مهین من اراد اهانتک نے اس کو پکڑ لیا پس میرے لئے یہ ایک ۳۵۹ برانشان ہے کہ جو شخص میرے تباہ کرنے کے لئے ایک الہام پیش کرتا تھا وہ خود ہی تباہ اور ہلاک ہو گیا۔ چونکہ عبد الرحمن محی الدین علماء کے خاندان میں سے تھا اور ہزاروں انسانوں پر اُس کا اثر تھا اور علاوہ اس کے وہ پیر زادگی اور الہام کا بھی مدعی تھا اور اُس نواح میں ایک بڑا مشہور اور مرجع خلائق تھا۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے نہ چاہا کہ اس کے قول سے لوگ ہلاک ہوں۔ پس یہی بھید ہے کہ اس کے الہام کے بعد جس کے رو سے وہ میری ہلاکت اور تباہی کا منتظر تھا خدا نے اُسی کو ہلاک کیا اور میرے پر صد ہا برکتیں نازل کیں اور الہام إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ کے بعد اُسی پر دروازہ نسل بند کر دیا اور مجھے اُس کے الہام کے بعد تین بیٹے اور دیئے ۔ کہاں گیا اُس کا الہام إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الأَبْتَرُ - کون اس میں شک کر سکتا ہے کہ اگر یہ الہام اُس کا پورا ہو جاتا اور وہ زندہ رہتا اور میں ہلاک ہو جاتا اور اُس کے اولاد ہوتی اور میں ابتر رہ جاتا تو وہ لاکھوں انسانوں میں کراماتی مشہور ہو جاتا آگے اُن کا تو پیر زادگی کا خاندان تھا ہی پس اس کرامت سے تو لکھو کے والا اسم بامسمی ہو جاتا اور لاکھوں انسان لکھو کے والہ کی طرف رجوع کرتے سوخدا نے بموجب مثل پنجابی ایک دم میں لکھ توں گکھ کر دیا اور حج کرنا بھی اُس کو مفید نہ ہوا اور مکہ اور مدینہ کی راہ میں ہی فوت ہو گیا کیونکہ خانہ کعبہ ظالم کو بچا نہیں سکتا۔ خدا تعالی کی مجھ سے یہ عادت ہے کہ جو شخص میرے ذلیل کرنے کے ارادہ کو انتہا تک پہنچادیتا بنی اسرائیل: ۳۷