حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 373 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 373

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۷۳ حقيقة الوح ہے آخر وہ اُس کو پکڑتا ہے یا اُس کے مقابل پر کسی اور رنگ میں میرے لئے نشان ظاہر کر دیتا ہے اور دونوں باتوں میں سے ضرور ایک بات کر دیتا ہے یا دونوں پہلوؤں سے اپنا نشان قدرت دکھلاتا ہے سو چونکہ عبد الرحمن محی الدین نے میرے ذلیل کرنے کے لئے تمام مسلمانان پنجاب کی طرف ایک عام سر کلر جاری کیا اور کہا یہ مفتری ہے کذاب ہے منافق ہے کا فر ہے فرعون ہے۔ اور نہ صرف اسی قدر بلکہ ساتھ ہی یہ الہام بھی جڑ دیا کہ خدا اس کو تباہ کرے گا ہلاک کرے گا اس کی اولا د بھی مر جائے گی اور کوئی ان میں سے نہیں رہے گا۔ اس لئے وہ اپنے غلو سے اس لائق ہو گیا کہ خدا کا الہام انسی مهین من اراد اهانتک اس کی ذلت ظاہر کرے۔ سو اس سے زیادہ کیا ذلت ہوگی کہ وہ میری زندگی میں ہی ہلاک ہو گیا۔ اگر (۳۶۰) میں اس کے الہام مطابق فرعون تھا تو چاہیے تھا کہ میں اس کے سامنے ہلاک ہوتا نہ کہ وہ اور نیز اس کے الہام میں یہ تھا کہ میں بے اولا د رہوں گا۔ خدا نے اُس کی موت کے بعد تین لڑکے مجھے اور دیئے پس اس میں بھی اُس کی ذلت ہے کہ اُس کے الہام کے برخلاف ظہور میں آیا۔ اور یہ جو میں نے لکھا ہے کہ جب کوئی میرے ذلیل کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو کبھی کسی اور رنگ میں بھی خدا تعالیٰ میرانشان ظاہر کرتا ہے اس کی مثال یہ ہے کہ جب آٹھم شرطی میعاد کے بعد مرا تو نادان لوگوں نے شور مچایا کہ وہ میعاد کے اندر نہیں مرا حالانکہ اُس نے شرط الہام پوری کر دی تھی کیونکہ اُس نے ساتھ یا سنتر لوگوں کے رو برو دجال کہنے سے رجوع کر لیا تھا اور شرط کو پورا کر دیا تھا مگر پھر بھی جن کی طینت پاک نہیں تھی اعتراض کرنے سے باز نہ آئے تب خدا تعالیٰ نے میری نصرت اور تائید کے لئے لیکھرام کے مارے جانے کا نشان دکھلایا۔ ایسا ہی جب میرا پہلا لڑ کا فوت ہو گیا تو نادان مولویوں اور اُن کے دوستوں اور عیسائیوں اور ہندوؤں نے اُس کے مرنے پر بہت خوشی ظاہر کی اور بار بار اُن کو کہا گیا کہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ ء میں یہ بھی ایک پیشگوئی ہے کہ بعض لڑکے فوت بھی ہوں گے۔ پس ضرور تھا کہ کوئی لڑکا خورد سالی میں فوت ہو جاتا تب بھی وہ لوگ اعتراض سے باز نہ آئے تب خدا تعالیٰ نے ایک دوسرے