حقیقةُ الوحی — Page 371
روحانی خزائن جلد ۲۲ حقيقة الوح زندہ رہا ہے غرض یہ الہام اُن کا بھی جو مباہلہ کے رنگ میں تھا انہیں پر پڑا اور جو معنے اس کے واقعات نے ظاہر کئے ہیں وہ یہی ہیں کہ جو پہلے ہلاک ہونے والا ہے وہی فرعون ہے اور جو موسیٰ کے قائم مقام ہے اس کی نسبت دوسرا الہام ہے کہ اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ جس کے یہ معنی ہیں دشمن اُن کی زندگی میں ہی لا ولد مرے گا اور ہر ایک نعمت اور برکت سے محروم رہے گا اور اس کی بکلی بیخ کنی کی جائے گی۔ اگر یہ دونوں الہامات مولوی عبد الرحمن محی الدین صاحب شائع نہ کرتے اور جیسا کہ اُن کے خط کی ابتدا میں ہی اُن کا میری نسبت یہ ارادہ نہ ہوتا کہ جمیع اہل اسلام کی نظر میں ذلیل کیا جاؤں اور مجھ کو تمام لوگ فرعون سمجھ لیں اور میرے مرنے کے (۳۵۸ بعد مجھے مفتری اور کذاب کہہ کر میرے پر ہمیشہ لعنتیں بھیجتے رہیں تو خدا تعالیٰ اُن کو اس قدر جلد ملاک نہ کرتا لیکن انہوں نے تو الہام سنا کر تمام دنیا کو اپنے الہام کے ذریعہ سے یہ ترغیب دی کہ وہ مجھے کا فر اور منافق اور لعنتی سمجھ لیں اور میں ان کی زندگی میں مع اپنے تمام فرزندوں کے مر جاؤں اور میرا تمام کاروبار بگڑ جائے اور وہ ولی اللہ اور کراماتی ثابت ہو جائے اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ ایک صادق کے حق میں ایسی ذلت روا نہیں رکھتا اور نہیں چاہتا کہ ایک سچا سلسلہ تباہ ہو جاوے کیونکہ اس صورت میں وہ خود اپنے سلسلہ کا دشمن ہوگا سو خدا تعالی کو یہی فیصلہ پسند آیا کہ خود انہیں کو ہلاک اور تباہ کر دیا اور اس دعا کے بعد کوئی لڑکا اُن کے گھر میں پیدا نہیں ہوا بلکہ پہلا ایک لڑکا بھی فوت ہو گیا اور ہزار ہا لوگوں کو خبر ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے میں نے یہ الہام شائع کیا ہوا ہے کہ انی مهین من اراد اهانتک پس اس میں کیا شک ہے کہ عبد الرحمن محی الدین نے میرے ذلیل کرنے کے لئے کوئی دقیقہ اُٹھا نہیں رکھا۔ مجھے فرعون بنایا۔ میری بیخ کنی کے لئے پیشگوئی کی۔ میری اولا د مرنے کی خبر دی کہ سب مر جائے گی ۔ پس اگر میں پہلے اس سے مرجاتا تو اس میں کیا شک تھا کہ اس کے تمام دوست میری موت کو اس کی کرامت بناتے ۔ اور اگر میری اولا د بھی مر جاتی تو دو کرامتیں اُن کی مشہور ہو جاتیں مگر خدا تعالی نے اُن کے اس الہام کے بعد تین لڑکے مجھ کو اور دیئے اور بموجب اپنے وعدے