حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 360 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 360

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۶۰ حقيقة الـ ۳۲۷ کہا کہ میں دیوانہ نہیں میں نے حق پالیا ہے۔ میں نے بخوبی دیکھ لیا ہے کہ مسیح آنے والا یہی ہے جس کے ہاتھ پر میں نے بیعت کی ہے۔ تب نومید ہو کر ناک میں اُن کے رسی ڈال کر پابہ زنجیر سنگساری کے میدان میں لے گئے اور سنگسار کرنے سے پہلے پھر امیر نے اُن کو سمجھایا کہ اب بھی وقت ہے آپ بیعت توڑ دیں اور انکار کر دیں ۔ تب انہوں نے کہا کہ یہ ہرگز نہیں ہو گا اب میرا وقت قریب ہے۔ میں دنیا کی زندگی کو دین پر ہرگز مقدم نہیں کروں گا۔ کہتے ہیں کہ اُن کی اِس استقامت کو دیکھ کر صدہا آدمیوں کے بدن پر لرزہ پڑ گیا اور اُن کے دل کانپ اُٹھے کہ یہ کیسا مضبوط ایمان ہے ایسا ہم نے کبھی نہیں دیکھا۔ اور بہتوں نے کہا کہ اگر وہ شخص جس سے بیعت کی گئی ہے خدا کی طرف سے نہ ہوتا تو صاحبزادہ عبداللطیف یه استقامت ہرگز دکھلا نہ سکتا ۔ تب اس مظلوم کو پتھروں کے ساتھ شہید کیا گیا اور اُس نے آہ نہ کی اور چالیس دن اُن کی لاش پتھروں میں پڑی رہی اور آخری مقولہ اُن کا یہ تھا کہ میں چھ دن سے زیادہ مردہ نہیں رہوں گا تب امیر نے ان کی سنگساری کی جگہ پر ایک پہرہ بٹھا دیا کہ شاید یہ بھی فریب ہو گا مگر اس مقولہ سے ان کی مراد یہ تھی کہ چھ دن تک میری روح ایک نئے جسم کے ساتھ آسمان پر اُٹھائی جائے گی۔ اب ایمان اور انصاف سے سوچنا چاہیے کہ جس سلسلہ کا تمام مدار مکر اور فریب اور جھوٹ اور افترا پر ہو کیا اس سلسلہ کے لوگ ایسی استقامت اور شجاعت دکھلا سکتے ہیں ؟ کہ اس راہ میں پتھروں سے کچلا جانا قبول کریں اور اپنے بچوں اور بیوی کی کچھ بھی پروانہ کریں اور ایسی مردانگی کے ساتھ جان دیں اور بار بار ر ہائی کا وعدہ بشرط فسخ بیعت دیا جاوے مگر اس راہ کو نہ چھوڑیں۔ اسی طرح شیخ عبد الرحمن بھی کا بل میں ذبح کیا گیا اور دم نہ مارا اور یہ نہ کہا کہ مجھے چھوڑ دو میں بیعت کو توڑتا ہوں اور یہی سچے مذہب اور سچے امام کی نشانی ہے کہ جب کسی کو اس کی پوری معرفت حاصل ہو جاتی ہے اور ایمانی شیرینی دل و جان میں رچ جاتی ہے تو ایسے لوگ اس راہ میں مرنے سے نہیں ڈرتے ۔ ہاں جو سطحی ایمان رکھتے