حقیقةُ الوحی

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 359 of 830

حقیقةُ الوحی — Page 359

روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۵۹ حقيقة ا کے لائق ہے کہ ابھی میں نے دعا تمام نہیں کی تھی کہ میرے پر غنودگی طاری ہوئی اور الہام ہوا (۳۳۶) سلام قولا من رب رحیم ۔ میں نے اُس وقت یہ الہام اپنے گھر کے لوگوں اور اُن سب کو جو حاضر تھے سنادیا اور خدائے علیم جانتا ہے کہ صبح کے چھ بجے سے پہلے میں بکلی صحت یاب ہو گیا اور اُسی دن میں نے آدھی کتاب تصنیف کر لی۔ فالحمد للہ علی ذالک ۔ دیکھو تذکرۃ الشہادتین کا حصہ اخیر ۔ ۱۵۷۔ نشان۔صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف کی شہادت بھی میری سچائی پر ایک نشان ہے کیونکہ جب سے خدا نے دنیا کی بنیاد ڈالی ہے کبھی ایسا اتفاق نہیں ہوا کہ کوئی شخص دیدہ و دانستہ ایک جھوٹے مکارمفتری کے لئے اپنی جان دے اور اپنی بیوی کو بیوہ ہونے کی مصیبت میں ڈالے اور اپنے بچوں کا یتیم ہونا پسند کرے اور اپنے لئے سنگساری کی موت قبول کرے یوں تو صد ہا آدمی ظلم کے طور پر قتل کئے جاتے ہیں مگر میں جو اس جگہ صاحبزادہ مولوی عبد اللطیف صاحب کی شہادت کو ایک عظیم الشان نشان قرار دیتا ہوں وہ اس وجہ سے نہیں کہ ظلم سے قتل کئے گئے اور شہید کئے گئے بلکہ اس وجہ سے ہے کہ شہید ہونے کے وقت انہوں نے وہ استقامت دکھائی کہ اس سے بڑھ کر کوئی کرامت نہیں ہو سکتی۔ ان کو تین مرتبہ امیر نے مختلف وقتوں میں نرمی سے سمجھایا کہ جو شخص قادیان میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اُس کی بیعت توڑ دو تو آپ کو چھوڑ دیا جائے گا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ آپ کی عزت ہوگی ورنہ سنگسار کئے جاؤ گے۔ انہوں نے ہر ایک مرتبہ میں یہی جواب دیا کہ میں اہل علم ہوں اور زمانہ دیدہ ہوں میں نے بصیرت کی راہ سے بیعت کی ہے میں اس کو تمام دنیا سے بہتر سمجھتا ہوں اور کئی دن اُن کو حراست میں رکھا گیا اور سخت دکھ دیا گیا اور ایک بھارا از نجیر ڈالا گیا جو سر سے پاؤں تک تھا اور بار بار سمجھایا اور ترک بیعت پر عزت افزائی کا وعدہ کیا کیونکہ ان کو ریاست کابل سے پرانے تعلقات تھے اور ریاست میں اُن کے حقوق خدمات تھے مگر انہوں نے بار بار