حقیقةُ الوحی — Page 344
روحانی خزائن جلد ۲۲ ۳۴۴ حقيقة الوح رب العالمين انک علی کلّ شَيءٍ قديرو بالاجابة جدير۔ آمین یعنی جولوگ ظالم ہیں وہ جڑھ سے کاٹے جائیں گے اور خدا کے لئے حمد ہے۔ تو ہر چیز پر قادر ہے اور دعا قبول کرنے والا ہے آمین۔ اور پھر صفحہ ۲۶ کتاب مذکور کے حاشیہ میں مولوی مذکور نے میری ۳۳۱ نسبت لکھا ہے تَبَّا لَهُ وَلَا تُبَاعِہ یعنی وہ اور اُس کے پیرو ہلاک ہو جائیں۔ پس خدا تعالیٰ کے فضل سے میں اب تک زندہ ہوں اور میرے پیرواُس زمانہ سے قریباً پچاس حصہ زیادہ ہیں اور ظاہر ہے کہ مولوی غلام دستگیر نے میرے صدق یا کذب کا فیصلہ آیت فَقُطِعَ دَابِرُ الْقَوْمِ الَّذِينَ ظَلَمُوا پر چھوڑا تھا جس کے اس محل پر یہ معنی ہیں کہ جو ظالم ہوگا اُس کی جڑھ کاٹ دی جائے گی اور یہ امر کسی اہل علم پر مخفی نہیں کہ آیت ممدوحہ بالا کا مفہوم عام ہے جس کا اُس شخص پر اثر ہوتا ہے جو ظالم ہے پس ضرور تھا کہ ظالم اُس کے اثر سے ہلاک کیا جاتا لہذا چونکہ غلام دستگیر خدا تعالیٰ کی نظر میں ظالم تھا اس لئے اس قدر بھی اس کو مہلت نہ ملی جو اپنی اس کتاب کی اشاعت کو دیکھ لیتا اس سے پہلے ہی مر گیا اور سب کو معلوم ہے کہ وہ اس دعا سے چند روز بعد ہی فوت ہو گیا۔ بعض نادان مولوی لکھتے ہیں کہ غلام دستگیر نے مباہلہ نہیں کیا صرف ظالم پر بددعا کی تھی مگر میں کہتا ہوں کہ جبکہ اُس نے میرے مرنے کے ساتھ خدا سے فیصلہ چاہا تھا اور مجھے ظالم قرار دیا تھا تو پھر وہ بددعا اس پر کیوں پڑ گئی اور خدا نے ایسے نازک وقت میں جبکہ لوگ خدائی فیصلہ کے منتظر تھے غلام دستگیر کو ہی کیوں ہلاک کر دیا اور جبکہ وہ اپنی دعا میں میرا ہلاک ہونا چاہتا تھا تا دنیا پر یہ بات ثابت کر دے کہ جیسا کہ محمد طاہر کی بددعا سے جھوٹا مہدی اور جھوٹا مسیح ہلاک غلام دستگیر نے میری نسبت یہ ارادہ کیا تھا کہ اس کی بددعا سے میں مرجاؤں اور اس بات کا ثبوت ہو کہ میں کا ذب اور مفتری ہوں اور محمد طاہر کی طرح غلام دستگیر کی کرامت ثابت ہو۔ اور اس طرف میرے خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا که انی مهین من اراد اهانتک یعنی جو شخص تیری اہانت چاہتا ہے میں اُس کو ذلیل کروں گا۔ آخر خدا کے فیصلہ سے غلام و انگیر ہلاک ہو گیا اور میں بفضلہ تعالی اب تک زندہ ہوں اور سیا یک بزرگ نشان ہے۔ منہ الانعام: ۴۶